صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 13
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۵ کتاب المرضى اور پیغمبروں پر جو بلائیں آتی ہیں وہ ان کی ترقی درجات کے لیے ہوتی ہیں۔بعض جاہل جو اس راز کو نہیں سمجھتے وہ جب بلاؤں میں مبتلا ہوتے ہیں تو بجائے اس کے کہ اس بلا سے فائدہ اُٹھاویں اور کم از کم آئندہ کے لیے مفید سبق حاصل کریں اور اپنے اعمال میں تبدیلی پیدا کریں کہہ دیتے ہیں کہ اگر ہم پر مصیبت آئی تو کیا ہوا نبیوں اور پیغمبروں پر بھی تو آجاتی ہیں، حالانکہ ان بلاؤں کو انبیاء کی مشکلات اور مصائب سے کوئی نسبت ہی نہیں۔جہالت بھی کیسی بُری مرض ہے کہ انسان اس میں قیاس مع الفارق کر بیٹھتا ہے۔یہ بڑا دھو کہ واقع ہوتا ہے جو انسان تمام انبیاء کی مشکلات کو عام لوگوں کی بلاؤں پر حمل کر لیتا ہے۔پس خوب یاد رکھو کہ جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا ہے انبیاء اور دوسرے اختیار و ابرار کی بلائیں محبت کی راہ سے ہیں۔خدا تعالیٰ اُن کو ترقی دیتا جاتا ہے اور یہ بلائیں وسائل ترقی میں سے ہیں، لیکن جب مفسدوں پر آتی ہیں تو اللہ تعالیٰ اُن کو اس عذاب سے تباہ کرنا چاہتا ہے۔وہ بلائیں ان کے استیصال اور نیست و نابود کرنے کا ذریعہ ہو جاتی ہیں۔یہ ایسا فرق ہے کہ دلائل کا محتاج نہیں ہے۔“ (ملفوظات جلد ۴ صفحہ ۱۱۸،۱۱۷) بَاب ٤ : وُجُوبُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ بیمار کی عیادت کر ناضروری ہے ٥٦٤٩: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ :۵۶۴۹: قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ ابوعوانہ (وضاح یشکری) نے ہمیں بتایا۔انہوں أَبِي وَائِلٍ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِي نے منصور (بن معتمر) سے منصور نے ابو وائل سے، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله ابو وائل نے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے روایت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْعِمُوا الْجَائِعَ وَعُودُوا کی انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھوکے کو کھلاؤ ، بیمار کی عیادت کرو اور الْمَرِيضَ وَفُكُوا الْعَانِيَ۔أطرافه : ٣٠٤٦، 517٤، 5373، 7173۔گرفتار بلا کو چھڑاؤ۔