صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 371 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 371

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۸ - كتاب الأدب باب ۱۰: فَضْلُ صِلَةِ الرَّحِمِ صلہ رحمی کی فضیلت ٥٩٨٢ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا ۵۹۸۲: ابو الولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ عُثْمَانَ قَالَ ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: مجھے (عمرو) ابن عثمان سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ عَنْ أَبِي نے بتایا، کہا: میں نے موسیٰ بن طلحہ سے سنا۔موسیٰ نے حضرت ابو ایوب (انصاری) سے روایت کی۔أَيُّوبَ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي وہ کہتے تھے کسی نے کہا: یارسول اللہ ! مجھے ایسا عمل بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ۔۔۔ح۔بتائیے کہ جو مجھے جنت میں داخل کرے۔اطرافه: ١٣٩٦، ٥٩٨٣ - حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ :۵۹۸۳ نیز مجھ سے عبد الرحمن بن بشر نے بیان بِشْرٍ حَدَّثَنَا بَهْزُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا کیا کہ بہتر ( بن اسد بصری) نے ہمیں بتایا کہ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔(عمرو) ابن عثمان بن عبد اللہ ابْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ وَأَبُوهُ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُمَا بن موهب اور ان کے باپ عثمان بن عبد اللہ نے ہمیں بتایا کہ ان دونوں نے موسیٰ بن طلحہ سے سَمِعَا مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ عَنْ أَبِي ستا۔وہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ روایت کرتے تھے۔ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللهِ أَخْبِرْنِي مجھے ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کرے۔بِعَمَلِ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ فَقَالَ الْقَوْمُ مَا لوگوں نے کہا: اسے کیا ہو گیا، اسے کیا ہو گیا؟ لَهُ مَا لَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَبِّ مَا لَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ ضرورت ہے، اس کو کیا ہو گیا؟ پھر نبی صلی اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعْبُدُ اللهَ لَا علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی عبادت کرو۔اس کا کسی تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِي کو شریک نہ ٹھہراؤ اور نماز کو سنوار کر پڑھو اور الزَّكَاةَ وَتَصِلُ الرَّحِمَ ذَرْهَا۔قَالَ كَأَنَّهُ كَانَ عَلَى رَاحِلَتِهِ۔اطرافه: ١٣٩٦، ٥٩٨٢- زکوۃ ادا کرو اور رشتہ داروں سے نیک سلوک کرو۔(آپ نے فرمایا:) اس (میری اونٹنی) کو چھوڑ دو۔راوی کہتے ہیں: گویا آپ اپنی سواری پر تھے۔