صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 370
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۳۷۰ ۷۸ - كتاب الأدب کریں گے اور اس کی خاطر دوسرے کے ماں باپ کا خیال رکھیں گے تو یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ دوسر افریق آپ کے والدین کا پہلے سے بڑھ کر خیال نہ کرے۔“ خطبات طاہر، خطبه جمعه فرموده ۵ اگست ۱۹۸۳، جلد ۲ صفحه ۴۱۵،۴۱۴) بَاب ۹: صِلَةُ الْأَخِ الْمُشْرِكِ مشرک بھائی سے سلوک کرنا يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْتَعْ هَذِهِ وَالْبَسْهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَإِذَا جَاءَكَ الْوُفُودُ۔قَالَ إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَّا خَلَاقَ لَهُ۔٥٩٨١ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۵۹۸۱: موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا عبد العزیز بن مسلم نے ہمیں بتایا کہ عبد اللہ بن عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ دینار نے ہم سے بیان کیا۔عبد اللہ نے کہا: میں عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ رَأَى نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا۔وہ کہتے تھے: حضرت عمر نے ایک ریشمی دھاری دار جوڑا عُمَرُ حُلَّةَ سِيَرَاءَ تُبَاعُ فَقَالَ بکتے ہوئے دیکھا اور کہنے لگے: یا رسول اللہ ! اسے خرید لیں اور آپ اس کو جمعہ کے دن پہنا کریں اور نیز اس وقت کہ جب آپ کے پاس نمائندے آئیں۔آپ نے فرمایا: یہ تو وہی پہنتا ہے جس کے فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لئے کوئی بھلائی نہیں۔پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مِنْهَا بِحُلَلٍ فَأَرْسَلَ إِلَى عُمَرَ بِحُلَّةٍ پاس اسی قسم کے کئی جوڑے آئے اور آپ نے فَقَالَ كَيْفَ أَلْبَسُهَا وَقَدْ قُلْتَ فِيهَا حضرت عمر کو بھی ایک جوڑا بھیجا۔انہوں نے کہا: مَا قُلْتَ قَالَ إِنِّي لَمْ أُعْطِكَهَا میں اسے کیسے پہنوں جبکہ آپ اس کے متعلق فرما لِتَلْبَسَهَا وَلَكِنْ تَبِيعُهَا أَوْ تَكْسُوهَا چکے ہیں جو فرما چکے ہیں۔آپ نے فرمایا: میں نے فَأَرْسَلَ بِهَا عُمَرُ إِلَى أَخِ لَّهُ مِنْ أَهْلِ تمہیں یہ اس لئے نہیں دیا کہ تم اس کو پہنو بلکہ تم اس کو بیچو یا کسی کو پہنے کیلئے دو۔تب حضرت عمر مَكَّةَ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ۔نے وہ جوڑا اپنے ایک بھائی کو بھیج دیا جو مکہ میں رہتا تھا پیشتر اس کے کہ وہ مسلمان ہو ا ہو۔أطرافه : ۸۸٦، ٩٤۸، ۲۱۰٤، ۲۶۱۲، ۲۶۱۹، ٣٠٥٤، ٥٨٤١، ٦٠٨١-