صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 369
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۳۶۹ ۷۸ - كتاب الأدب تلاوت کے لئے جو آیات اکٹھی کیں اُن میں یہ آیت داخل فرمائی: وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِى تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ (النساء:۲) کہ دیکھو اپنے تمہارے رحمی رشتے جو ہیں اُن کے سلسلہ میں تو تم ہو ہی واقف لیکن اب تم ایک ایسے تعلق میں باندھے جارہے ہو جہاں دوسرے کے رحم کا بھی خیال کرنا پڑے گا، دوسرے کے رحمی رشتوں کو بھی اپنا سمجھنا پڑے گا۔اسکا فقدان ہے جس کے نتیجے میں ہمارا معاشرہ بہت سے دکھوں میں مبتلا ہے۔ان تمام امور میں ہمیں لازماً قرآن کی پناہ میں واپس جانا پڑے گا۔“ نیز فرمایا: (خطبات طاہر ، خطبہ جمعہ فرموده ۱۴، فروری ۱۹۸۶، جلد ۵ صفحه ۱۵۲،۱۵۱) قرآن کریم نے جہاں نکاح کا مضمون بیان کیا ہے وہاں فرماتا ہے: وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِى تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ (النساء : ۲) کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو جس کا واسطہ دے کر تم مانگتے ہو اور اپنے لئے خیر طلب کرتے ہو وَ الْاَرْحَام اور ہم تمہیں متنبہ کرتے ہیں کہ رحموں کا حق ادا کرنا۔اس میں انسان کو متوجہ کیا گیا ہے کہ اپنے ماں باپ کا حق تو تم ادا کرتے ہی ہو، تنبیہ کا خاص پہلو اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دو رحموں کے رشتے آپس میں ہو رہے ہوتے ہیں، جب ایک کے ماں باپ کا تعلق اپنی بیٹی یا بیٹے کے ذریعہ دوسرے کے ماں باپ سے ہو رہا ہوتا ہے اور بیچ میں ایک سنگم پیدا ہو جاتا ہے ، ایک ایسا مقام آجاتا ہے جہاں میاں بیوی کے ماں باپ دونوں کے ماں باپ بن جاتے ہیں تو فرمایا کہ اس بات کا خیال رہے کہ اب تمہارے ارحام کے تعلقات وسیع ہو رہے ہیں۔اگر تمہیں ہم سے تعلق اور پیار ہے ، اگر تم چاہتے ہو کہ ہم تم سے رحمت کا سلوک کریں تو ان رحمی رشتوں کا خیال رکھنا اور کوشش کرنا کہ جس طرح اپنے ماں باپ سے پیار کرتے ہو اور خدمت کرتے ہو دوسرے کے ساتھ بھی کرو۔یہ ایک ایسا مثبت نظریہ ہے کہ اگر دونوں میاں بیوی یہ کوشش کریں کہ اپنے ماں باپ سے بڑھ کر نہیں تو کم از کم اپنے ماں باپ کی طرح ہی ایک دوسرے کے ماں باپ کا خیال رکھیں تو اس طرح دونوں میں ایثار پیدا ہو جائے گا، دونوں میں ایک دوسرے سے زیادہ محبت پیدا ہو جائے گی اور بعض اوقات جو زیادتیاں ہو جاتی ہیں وہ بالکل پلٹ جائیں گی، جہنم کی بجائے جنت بن جائے گی۔جب آپ اللہ تعالیٰ کی خاطر ایثار