صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 368
صحیح البخاری جلد ۱۴ قَدِمَتْ صلي أُمَّك۔۳۲۸ ۷۸ - كتاب الأدب وَهِيَ رَاغِبَةٌ قَالَ نَعَمْ اپنی خواہش سے آئی ہیں۔آپ نے فرمایا: ہاں۔اپنی ماں سے نیک سلوک کرو۔أطرافه: ٢٦٢٠، ٣١٨٣، ٥٩٧٨۔٥٩٨٠ : حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا :۵۹۸۰: يجي ( بن بکیر) نے ہم سے بیان کیا کہ اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ لیث نے ہمیں بتایا۔انہوں نے فصیل سے، تھیل عُبَيْدِ اللهِ بْنِ اللهِ بْن عَبْدِ اللهِ أَنَّ عَبْدَ الله نے ابن شہاب سے ، ابن شہاب نے عبید اللہ بن بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ أَخْبَرَهُ عبد اللہ سے روایت کی کہ حضرت عبد اللہ بن عباس نے اُن کو بتایا۔حضرت ابو سفیان نے ان سے بیان أَنَّ هِرَقْلَ أَرْسَلَ إِلَيْهِ فَقَالَ فَمَا يَأْمُرُ کیا کہ ہر قل نے ان کو بلا بھیجا تو اُس نے کہا: وہ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس چیز کا حکم دیتے ہیں ؟ فَقَالَ يَأْمُرُنَا بِالصَّلَاةِ وَالصَّدَقَةِ ابو سفیان نے کہا: وہ ہمیں نماز، صدقہ ، بدکاری وَالْعَفَافِ وَالصَّلَةِ۔سے بچنے اور لوگوں سے نیک سلوک کرنے کا حکم دیتے ہیں۔أطرافه: ٧، ٥١ ، ٢٦٨١ ، ۲۸۰٤ ، ۲۹٤۱، ۲۹۷۸، ۳۱۷۴، ٤۰۰۳، ٦٢٦٠، ٧١٩٦، ٧٥٤١۔تشريح۔صِلَةُ الْمَرْأَةِ أُمَّهَا وَلَهَا زَوج یعنی عورت کا اپنی ماں سے سلوک کرنا جبکہ اس کا خاوند ہو۔اسلام کی عدل کی تعلیم جو انسان کو ترقی دیتے دیتے احسان اور ایتاء ذی القربی کے مقام تک پہنچاتی ہے۔انسان اس آخری منزل کو نہیں پاسکتا جب تک ابتدائی سیڑھیاں عبور نہ کرلے۔رحمی رشتوں کے ساتھ شادی کے بعد جب نئے رشتے بنتے ہیں تو یہ وقت عدل و انصاف کے پیمانے کو حد اعتدال میں رکھنے اور تمام رشتوں کا حق کما حقہ ادا کرنا اسلام کے تاکیدی احکام اور حسن معاشرت کا ایک رُکن اعظم ہے۔اس لئے نکاح کے موقع پر اس کی خاص یاد دہانی اور تاکید کی جاتی ہے تا کہ انسان جادہ مستقیم پر قائم رہے۔حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: صلہ رحمی میں جہاں تک اپنے ماں باپ کا تعلق ہے۔الا ما شاء اللہ عموم آلوگ یہ حقوق ادا کرتے ہی ہیں۔نسلاً بعد نسل ہمیں ماں باپ اور بہن بھائی کی محبت ورثے میں مل چکی ہے اور اس لحاظ سے ہمارا معاشرہ خدا کے فضل سے مضبوط ہے۔ابتلاء آتا ہے شادی کے موقع پر۔تبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کے موقع پر