صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 367
صحیح البخاری جلد ۱۴ تمہارے گھروں سے نہیں نکالا۔اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔(ترجمہ تفسیر صغیر) حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ۷۸ - كتاب الأدب ماں باپ کی فرماں برداری کا خدا نے اعلیٰ مقام رکھا ہے اور بڑے بڑے تاکیدی الفاظ میں یہ حکم دیا ہے۔اُن کے کفر و اسلام اور فسق و فجور یا دشمن اسلام وغیرہ ہونے کی کوئی قید نہیں لگائی اور ہر حالت میں ان کی فرماں برداری کا تاکیدی حکم دیا ہے۔مگر مقابلہ کے وقت ان کے متعلق بھی فرما دیا کہ إِنْ جَاهَدُكَ عَلَى أَنْ تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمُ فَلَا تُطِعْهُمَا (لقمان:۱۲) اگر خدا کے مقابلہ میں آجاویں تو خدا کو مقدم کرو۔اُن کی ہر گز نہ مانو۔“ (حقائق الفرقان جلد ۳ صفحه ۳۳۱، ۳۳۲) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: تیرے رب نے چاہا ہے کہ تو فقط اسی کی بندگی کر اور والدین سے احسان کر۔۔۔اگر خدا جائز رکھتا کہ اس کے ساتھ کسی اور کی بھی پرستش کی جائے تو یہ حکم دیتا کہ تم والدین کی بھی پرستش کرو کیونکہ وہ بھی مجازی رب ہیں اور ہر ایک شخص طبعا یہاں تک کہ درند چرند بھی اپنی اولاد کو اُن کی خورد سالی میں ضائع ہونے سے بچاتے ہیں۔پس خدا کی ربوبیت کے بعد اُن کی بھی ایک ربوبیت ہے اور وہ جوش ربوبیت کا بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔“ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۱۳، ۲۱۴) باب ۸: صِلَةُ الْمَرْأَةِ أُمَّهَا وَلَهَا زَوْجٌ عورت کا اپنی ماں سے سلوک کرنا جبکہ اس کا خاوند ہو ا: وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي هِشَامٌ :۵۹۷۹ اور لیث نے کہا: ہشام نے مجھے بتایا۔عَنْ عُرْوَةَ عَنْ أَسْمَاءَ قَالَ قَدِمَتْ انہوں نے عروہ سے، عروہ نے حضرت اسماء سے روایت کی۔وہ کہتی تھیں کہ میری ماں جو کہ مشرکہ أُمِّي وَهِيَ مُشْرِكَةٌ – فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ - تھیں، اپنے باپ کے ساتھ ان دنوں میں آئیں کہ وَمُدَّتِهِمْ إِذْ عَاهَدُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ جب قریش نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَ أَبِيْهَا فَاسْتَفْتَيْتُ معاہدہ کیا تھا اور مہلت دی تھی۔میں نے نبی صلی النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنَّ اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میں نے کہا کہ میری ماں