صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 366 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 366

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۳۶۶ ۷۸ - كتاب الأدب أَوْ شَهَادَةُ الزُّورِ۔ قَالَ شُعْبَةُ وَأَكْثَرُ جھوٹی شہادت دینا۔ شعبہ نے کہا: اور میر اغالب ظَنِّي أَنَّهُ قَالَ شَهَادَةُ النُّورِ۔ گمان یہ ہے کہ آپؐ نے فرمایا: جھوٹی شہادت دینا۔ أطرافه: ٢٦٥٣، ٦٨٧١- بَاب : صِلَةُ الْوَالِدِ الْمُشْرِكِ مشرک باپ سے نیک سلوک کرنا ٥٩٧٨: حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا ۵۹۷۸: (عبد اللہ بن زبیر) حمیدی نے ہم سے سُفْيَانُ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ أَخْبَرَنِي بیان کیا۔ سفیان نے ہمیں بتایا۔ ہشام بن عروہ نے أَبِي أَخْبَرَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ ہمیں بتایا۔ (کہا:) مجھے میرے باپ نے بتایا کہ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَتْ أَتَتْنِي أُمِّي حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے کیا۔ وہ کہتی تھیں: میری ماں نبی صلی اللہ علیہ رَاغِبَةً فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ بیان کیا۔ وہ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسلم کے زمانہ میں شوق سے میرے پاس آئیں۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا میں ان وَسَلَّمَ اصِلُهَا قَالَ نَعَمْ۔ قَالَ ابْنُ سے نیک سلوک کروں؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ عُيَيْنَةَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِيهَا : لَا (سفیان) ابن عیینہ کہتے تھے: اللہ تعالیٰ نے اس يَنْهُكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي کے متعلق یہ آیت نازل کی ہے: یعنی اللہ تمہیں اُن الدين (الممتحنة : ٩)۔ أطرافه: ٢٦٢٠، ٣١٨٣، ٥٩٧٩۔ لوگوں کے ساتھ سلوک کرنے سے نہیں روکتا جو تم سے دین کی وجہ سے نہیں لڑتے۔ تشريح : صِلَةُ الْوَالِدِ الْمُشْرِكِ: یعنی مشرک باپ سے نیک سلوک کرنا۔ اسلام نے انسانی رشتوں اور بطور خاص رحمی رشتوں سے قطع تعلقی کو بہت بڑا گناہ قرار دیا ہے اور رحمی رشتوں کو جوڑنے اور استوار کرنے میں مذہب وملت کے فرق سے بالا تر ہو کر ان رشتوں کو نبھانے کی تعلیم دی گئی ٹی ہے اور نہ صرف رحمی رشتوں کو بلکہ قرآن کریم ان تمام افراد سے حسن سلوک کا حکم دیتا ہے جن کے شر سے انسانی اور اسلامی معاشرہ محفوظ ہوتا ہے۔ فرماتا ہے : لَا يَنْهُكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَ لَمْ يُخْرِجُوكُمُ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ ) (الممتحنة:(٩) یعنی اللہ تم کو ان لا یعنی اللہ تم کو ان لوگوں سے نیکی کرنے اور عدل کا معاملہ کرنے سے نہیں روکتا جو تم سے دینی اختلاف کی وجہ سے نہیں لڑے اور جنہوں نے تم کو