صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 366
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۸ - كتاب الأدب أَوْ شَهَادَةُ الرُّورِ۔قَالَ شُعْبَةُ وَأَكْثَرُ جھوٹی شہادت دینا۔شعبہ نے کہا: اور میر اغالب ظَنِّي أَنَّهُ قَالَ شَهَادَةُ النُّورِ۔گمان یہ ہے کہ آپ نے فرمایا: جھوٹی شہادت دینا۔أطرافه: ٢٦٥٣، ٦٨٧١ - بَاب : صِلَةُ الْوَالِدِ الْمُشْرِكِ مشرک باپ سے نیک سلوک کرنا ٥٩٧٨ : حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا ۵۹۷۸: عبد اللہ بن زبیر ) حمیدی نے ہم سے سُفْيَانُ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ أَخْبَرَنِي بیان کیا۔سفیان نے ہمیں بتایا۔ہشام بن عروہ نے أَبِي أَخْبَرَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ ہمیں بتایا۔(کہا:) مجھے میرے باپ نے بتایا کہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ أَتَتْنِي أُمِّي حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہمانے مجھ سے بیان کیا۔وہ کہتی تھیں : میری ماں نبی صلی اللہ علیہ رَاغِبَةً فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسلم کے زمانہ میں شوق سے میرے پاس آئیں۔میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا میں ان وَسَلَّمَ آصِلُهَا قَالَ نَعَمْ۔قَالَ ابْنُ سے نیک سلوک کروں؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔عُيَيْنَةَ فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى فِيهَا: لَا (سفیان) ابن عیینہ کہتے تھے: اللہ تعالیٰ نے اس يَنْكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي کے متعلق یہ آیت نازل کی ہے: یعنی اللہ تمہیں اُن الدِّينِ (الممتحنة: ٩)۔أطرافة: ۲٦٢٠، ۳۱۸۳، ۵۹۷۹ لوگوں کے ساتھ سلوک کرنے سے نہیں روکتا جو تم سے دین کی وجہ سے نہیں لڑتے۔تشریح : صِلَةُ الْوَالِدِ الْمُشْرِك : یعنی مشرک باپ سے نیک سلوک کرتا۔اسلام نے انسانی رشتوں اور بطور خاص رحمی رشتوں سے قطع تعلقی کو بہت بڑا گناہ قرار دیا ہے اور رحمی رشتوں کو جوڑنے اور استوار کرنے میں مذہب وملت کے فرق سے بالا تر ہو کر ان رشتوں کو نبھانے کی تعلیم دی گئی ہے اور نہ صرف رحمی رشتوں کو بلکہ قرآن کریم ان تمام افراد سے حسن سلوک کا حکم دیتا ہے جن کے شر سے انسانی اور اسلامی معاشرہ محفوظ ہوتا ہے۔فرماتا ہے: لَا يَنْكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِن دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَزُوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ ) ( الممتحنة: 9) یعنی اللہ تم کو ان لوگوں سے نیکی کرنے اور عدل کا معاملہ کرنے سے نہیں روکتا جو تم سے دینی اختلاف کی وجہ سے نہیں لڑے اور جنہوں نے تم کو