صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 365
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۳۶۵ ۷۸ - كتاب الأدب ٥٩٧٦ : حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا :۵۹۷۶ اسحاق ( بن شاہین واسطی) نے مجھ سے خَالِدٌ الْوَاسِطِيُّ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ بیان کیا کہ خالد (بن عبد اللہ ) واسطی نے ہمیں عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ بتایا۔انہوں نے (سعید بن ایاس) مجریری سے، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ مجریری نے عبدالرحمن بن ابی بکرہ سے ، عبد الرحمن نے اپنے باپ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا الْكَبَائِرٍ قُلْنَا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ۔قَالَ میں تمہیں نہ بتاؤں کہ بڑے سے بڑے گناہ کیا ثَلَاثَ الْإِشْرَاكُ بِاللهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ہیں؟ ہم نے کہا: کیوں نہیں یا رسول اللہ ! ضرور۔وَكَانَ مُتَّكِنًا فَجَلَسَ فَقَالَ أَلَا وَقَوْلُ آپ نے تین بار فرمایا: اللہ کا شریک ٹھہر انا اور النُّورِ وَشَهَادَةُ النُّورِ۔أَلَا وَقَوْلُ الزور والدین کی نافرمانی کرنا اور آپ اس وقت تکیہ لگا وَشَهَادَةُ الرُّورِ۔فَمَا زَالَ يَقُولُهَا حَتَّى کر بیٹھے تھے۔اُٹھ بیٹھے اور فرمایا: سنو! جھوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی دینا۔سنو! جھوٹ بولنا اور جھوٹی قُلْتُ لَا يَسْكُتُ۔الله گواہی دینا۔آپ ان کلمات کو اتنی بار دہراتے رہے کہ میں نے سمجھا آپ خاموش نہیں ہوں گے۔أطرافه ٢٦٥٤ ، ٦٢٧٣، ٦٢٧٤، ٦٩١٩ - :٥٩٧٧ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ۵۹۷۷: محمد بن ولید نے مجھ سے بیان کیا کہ محمد حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بن جعفر نے ہمیں بتایا۔شعبہ نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ قَالَ (کہا:) عبید اللہ بن ابی بکر نے مجھے بتایا۔(عبید اللہ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ نے) کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا۔وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عَنْهُ قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ نے کبیرہ گناہوں کا ذکر کیا یا کہا کہ کبیرہ گناہوں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَبَائِرَ - أَوْ سُئِلَ عَنِ کے متعلق آپ سے پوچھا گیا۔آپ نے فرمایا: اللہ الْكَبَائِرِ – فَقَالَ الشَّرْكُ بِاللهِ وَقَتْلُ کا شریک ٹھہرانا اور ناحق خون کرنا اور والدین کی النَّفْسِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ فَقَالَ أَلَا نا فرمانی کرنا، پھر آپ نے فرمایا: کیا میں تمہیں بڑے أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ قَالَ قَوْلُ النُّورِ سے بڑا گناہ نہ بتاؤں؟ فرمایا: جھوٹی بات کہنا یا فرمایا: