صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 12 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 12

صحیح البخاری جلد ۱۴ اله ۷۵ - كتاب المرضى ہے کہ دشمن بھی خوبی کو مان لے اور اس کا انکار نہ کر سکے ۔ پس اخلاق اور روحانیت کی پختگی کے لئے ابتلاؤں کا آنا اور ان کے آنے پر صبر و رضا کا مقام اختیار کرنا ایمان کی تکمیل کے لئے نہایت ضروری ہوتا ہے۔“ (تفسیر کبیر، كبير ، سورۃ العنکبوت زیر آ مبوت زیر آیت أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا ، جلدی صفحہ ۵۸۴، ۵۸۵) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ۔ یہ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ انبیاء اور راستبازوں پر بھی بعض اوقات بلائیں آجاتی ہیں اور مصائب اور شدائد میں ڈالے جاتے ہیں لیکن یہ گمان کرنا کہ وہ مصائب اور بلائیں کسی گناہ کی وجہ سے آتی ہیں خطرناک غلطی اور گناہ ہے۔ ان بلاؤں میں جو خدا کے راستبازوں اور پیارے بندوں پر آتی ہیں اور ان بلاؤں میں جو خدا تعالیٰ کے نافرمانوں اور خطاکاروں پر آتی ہیں زمین آسمان کا فرق ہے اس لیے کہ ان کے اسباب بھی مختلف ہیں۔ نبیوں اور راستبازوں پر جو بلائیں آتی ہیں اُن میں ان کو ایک صبر جمیل دیا جاتا ہے جس سے وہ بلا اور مصیبت ان کے لیے مدرک الحلاوت ہو جاتی ہیں۔ وہ اس سے لذت اُٹھاتے ہیں اور روحانی ترقیوں کے لیے ایک ذریعہ ہو جاتی ہیں۔ کیونکہ ان کے درجات کی ترقی کے لیے ایسی بلاؤں کا آنا ضروری ہے جو ترقیات کے لیے زینہ کا کام دیتی ہیں۔ جو شخص ان بلاؤں میں نہیں پڑتا اور ان مصیبتوں کو نہیں اُٹھاتا وہ کسی قسم کی ترقی نہیں کر سکتا۔ دنیا کے عام نظام میں بھی تکالیف اور مشقتوں کا ایک سلسلہ ہے جس میں سے ہرا ہے جس میں سے ہر ایسے شخص کو جو ترقی کا خواہاں ہے گذرنا پڑتا ہے لیکن ان تکالیف اور شاقہ محنتوں میں باوجود تکالیف کے ایک لذت ہوتی ہے جو اُسے کشاں کشاں آگے لیے جاتی ہے۔ برخلاف اس کے وہ مصیبت اور تکالیف جو انسان کی اپنی بد کرداری کی وجہ سے اس پر آتی ہیں۔ وہ مصیبت ہوتی ہے جس میں ایک درد اور سوزش ہوتی ہے جو اس کی زندگی اس کے لیے وبالِ جان کر دیتی ہے وہ موت کو ترجیح دیتا ہے مگر نہیں جانتا کہ یہ سلسلہ مرکز بھی ختم نہیں ہو گا۔ غرض ان بلاؤں کے نزول میں ہمیشہ سے قانونِ قدرت یہی ہے کہ جو بلائیں شامت اعمال کی وجہ سے آتی ہیں وہ الگ ہیں اور خدا کے راستبازوں