صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 361
صحیح البخاری جلد ۱۴ وَيَسُبُّ أُمَّهُ فَيَسُبُّ أُمَّهُ۔۳۶۱ ۷۸ - كتاب الأدب آدمی دوسرے آدمی کے باپ کو گالی دیتا ہے تو وہ پھر اُس کے باپ کو گالی دیتا ہے۔اور وہ اُس کی ماں کو گالی دیتا ہے پھر وہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے۔شريح: لا يَسُبُّ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ: کوئی شخص اپنے ماں باپ کو گالی نہ دے۔اسلام گالی دینے اور ہر قسم کی بدزبانی اور فحش گوئی سے منع کرتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا: أمسك عَلَيْك لسانك كه اپنی زبان پر قابورکھو۔نیز فرمایا: سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقُی کہ ایک مسلمان کا کسی کو گالی دینا فسق و فجور میں سے ہے۔انسان کو کسی برائی سے روکنے کا ایک طریق یہ بھی ہے کہ اُسے یہ بتایا جائے کہ جو تیر تم دوسروں پر چلاؤ گے وہ مڑ کر واپس تمہیں آلگے گا اور جب وہ تیر دوسرے پر چلانے والے کو آکر لگے تو اس کی تکلیف اور تلخی کا اُسے صحیح اور اک ہوتا ہے اور اس کی کاٹ کو وہ تب سمجھتا ہے جب کوئی دوسرے کے والدین کو گالی دیتا ہے اور رد عمل کے طور پر وہ اس کے والدین کو گالی دیتا ہے تب اسے اس کی حدت اور شدت اور اذیت کا اندازہ ہوتا ہے اس لئے فرمایا: زبان کے جو تیر تم دوسروں پر چلاؤ گے وہ واپس تمہیں ہی آکر لگیں گے اس لئے اس فعل شنیع سے باز آؤ۔سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اس سے ایک سبق تو یہ ملا کہ گالی نہیں دینی اور دوسرے یہ کہ اپنے ماں باپ کو دعائیں دلوانی ہیں تو اپنے اعلیٰ اخلاق کے نمونے دکھلاؤ۔تمہارے سے واسطہ رکھنے والے یہ کہیں کہ اللہ اس کے والدین کو جزاء دے جس نے اپنے بچوں کی ایسی اعلیٰ تربیت کی ہے۔“ (خطبات مسرور ، خطبہ جمعہ فرموده ۱۶ جنوری ۲۰۰۴، جلد ۲ صفحه ۵۳) بابه : إِجَابَةُ دُعَاءِ مَنْ بَرَّ وَالِدَيْهِ جس شخص نے اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کیا اُس کی دعا کی قبولیت ٥٩٧٤ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ۵۹۷۴: سعید بن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا، کہا : قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ اسماعیل بن ابراہیم بن عقبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں عُقْبَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ نے کہا: نافع نے مجھے خبر دی۔نافع نے حضرت ابن رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ رَّسُولِ اللهِ عمر رضی اللہ عنہما سے، حضرت ابن عمر نے رسول اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَمَا ثَلَاثَةُ صلى اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپ نے فرمایا: