صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 360
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۳۶۰ ۷۸ - كتاب الأدب سید نا حضرت خلیفة المسیح الخامس المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے والدین سے حسن سلوک کے بارہ میں بڑی تاکید فرمائی ہے سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے سے دت کرنے سے روکیں یا شرک کی تعلیم دیں۔ اس کے علاوہ ہر بات میں اُن کی اطاعت کا حکم ہے اور یہ حکم اس لئے ہے کہ جو خدمت انہوں نے بچپن میں ہماری کی ہے اُس کا بدلہ تو ہم نہیں اُتار سکتے۔ اس لئے یہ حکم ہے کہ ان کی خدمت کے ساتھ ساتھ اُن کے لئے دعا بھی کرو کہ اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے اور بڑھاپے کی اس عمر میں بھی اُن کو ہماری طرف سے کسی قسم کا کبھی کوئی دکھ نہ پہنچے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہئیے کہ خدمت اور دعا کے باوجود یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم نے اُن کی بہت خدمت کر لی اور اُن کا حق ادا ہو گیا۔ اس کے باوجو د بچے جو ہیں اس قابل نہیں کہ والدین کا وہ احسان اُتار سکیں جو انہوں نے بچپن میں اُن پر کیا۔“ (خطبات مسرور ، خطبه جمعه فرموده ۱۶ جنوری ۲۰۰۴، جلد ۲ صفحه ۴۶) باب ٤ : لَا يَسُبُّ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ کوئی شخص اپنے ماں باپ کو گالی نہ دے ٥٩٧٣ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ۵۹۷۳ : احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ ابراہیم بن سعد ۔ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے أَبِيهِ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ باپ (سعد بن ابراہیم بن عبد الرحمن بن عوف) سے، اُن کے باپ نے حمید بن عبد الرحمن سے، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حمید نے حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الْكَبَائِرِ أَنْ يَلْعَنَ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑے سے بڑے گناہوں میں الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ۔ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ سے یہ بھی ہے کہ آدمی اپنے والدین پر لعنت وَكَيْفَ يَلْعَنُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ قَالَ کرے۔ پوچھا گیا: یا رسول اللہ ! آدمی اپنے والدین يَسُبُّ الرَّجُلُ أَبَا الرَّجُلِ فَيَسُبُّ أَبَاهُ پر کس طرح لعنت کرتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ایک