صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 359 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 359

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۳۵۹ باب : لَا يُجَاهِدُ إِلَّا بِإِذْنِ الْأَبَوَيْنِ ماں باپ کی اجازت کے بغیر جہاد کو نہ جائے ۷۸ - كتاب الأدب ٥٩٧٢: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۵۹۷۲: مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحی (بن يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ وَشُعْبَةَ قَالَا حَدَّثَنَا سعید قطان نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سفیان حَبِيبٌ قَالَ ح۔وَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ (ثوری ) اور شعبہ سے روایت کی۔ان دونوں نے أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ کہا: حبیب بن ابی ثابت) نے ہم سے بیان کیا۔أَبِي الْعَبَّاسِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو انہوں نے کہا۔اور محمد بن کثیر نے ہم سے بیان قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کیا۔سفیان نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حبیب سے، وَسَلَّمَ أُجَاهِدُ۔قَالَ لَكَ أَبَوَانِ قَالَ حبیب نے ابوالعباس (سائب) سے، ابوالعباس نے حضرت عبد اللہ بن عمرو سے روایت کی۔وہ کہتے تھے کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میں جہاد کو جانتا ہوں۔آپ نے پوچھا: کیا نَعَمْ قَالَ فَفِيهِمَا فَجَاهِدٌ۔طرفه تمہارے ماں باپ ہیں؟ اُس نے کہا: ہاں۔آپ نے فرمایا: پھر انہی کے متعلق جہاد کرو۔رح : لَا يُجَاهِدُ إِلَّا بِإِذْنِ الأبوين: ماں باپ کی اجازت کے بغیر جہاد کو نہ جائے۔اسلام مذہب کے نام پر انسانی حقوق کے تلف کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دیتا۔بسا اوقات انسان حقوق العباد سے پہلو تہی کرنے کے لئے مذہب یا حقوق اللہ کی آڑ میں اُن انسانی رشتوں کے حقوق کو پامال کرتا ہے جن کا اُس کے سوا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔والدین کا رشتہ وہ ہے جس کا حق حقوق العباد میں سب سے مقدم ہے۔والدین کو بے یارو مدد گار چھوڑ کر جہاد پر جانے والے کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کی اجازت نہیں دی بلکہ والدین کی خدمت کرنے کو ہی جہاد قرار دیا ہے۔اس حدیث کے مطابق والدین کی خدمت جہاد پر مقدم ہے تو وہ لوگ جو دنیا اور اس کی آسائشوں کے مقابل والدین کی خدمت سے پہلو تہی کرتے ہیں یا ان کو اولڈ ہوسز میں چھوڑ جاتے ہیں اور وہ بوڑھے والدین اپنے بچوں کو ترستے ترستے راہی ملک عدم ہو جاتے ہیں، انہیں اپنے انجام سے ڈرنا چاہیے۔قرآن کریم نہ صرف زندگی میں والدین کی خدمت کی تاکید کرتا ہے بلکہ والدین کی وفات کے بعد بھی اولاد کو زمانہ طفولیت یاد دلا کر والدین کے لئے دعائیں کرنے کی تلقین فرماتا ہے۔