صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 358 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 358

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۳۵۸ ۷۸ - كتاب الأدب و مروہ کے درمیان سعی کی ، اسے لئے ہوئے عرفات گیا، پھر اسی حالت میں اُسے لئے ہوئے مزدلفہ آیا اور منیٰ میں کنکریاں ماریں۔وہ نہایت بوڑھی ہے، ذرا بھی حرکت نہیں کر سکتی۔میں نے یہ سارے کام اُسے اپنی پیٹھ پر اُٹھائے ہوئے سر انجام دئے ہیں تو کیا میں نے اس کا حق ادا کر دیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، اس کا حق ادا نہیں ہوا“ اس آدمی نے پوچھا: ”کیوں“ آپ نے فرمایا: ” اس لئے کہ اس نے تمہارے بچپن میں تمہارے لئے ساری مصیبتیں اس تمنا کے ساتھ جھیلی ہیں کہ تم زندہ رہو مگر تم نے جو کچھ اُس کے ساتھ کیا وہ اس حال میں کیا کہ تم اُس کے مرنے کی تمنا رکھتے ہو۔تمہیں پتہ ہے کہ وہ چند دن کی مہمان ہے۔(الوعی، العدد ۵۸ ، السنة الخامسة اب عام آدمی خیال کرتا ہے کہ اتنی تکلیف اُٹھا کر میں نے جو سب کچھ کیا تو میں نے بہت بڑی قربانی کی ہے۔لیکن آپ فرماتے ہیں کہ نہیں۔حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا۔“ (خطبات مسرور ، خطبه جمعه فرموده ۱۶ جنوری ۲۰۰۴، جلد ۲ صفحه ۴۷ تا ۴۹ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرماتے ہیں: ”والدہ کا حق بہت بڑا ہے اور اس کی اطاعت فرض۔“ (ملفوظات جلد ۵ صفحہ ۴۹۷) نیز فرمایا: ”والدین کی خدمت ایک بڑا بھاری عمل ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ دو آدمی بڑے بد قسمت ہیں۔ایک وہ جس نے رمضان پایا اور رمضان گزر گیا پر اُس کے گناہ نہ بخشے گئے اور دوسر اوہ جس نے والدین کو پایا اور والدین گزر گئے اور اُس کے گناہ بخشے نہ گئے۔والدین کے سایہ میں جب بچہ ہوتا ہے تو اُس کے تمام غم والدین اُٹھاتے ہیں۔جب انسان خود دنیوی امور میں پڑتا ہے تب انسان کو والدین کی قدر معلوم ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں والدہ کو مقدم رکھا ہے، کیونکہ والدہ بچہ کے واسطے بہت دکھ اُٹھاتی ہے۔کیسی ہی متعدی بیماری بچہ کو ہو۔چیچک ہو ، ہیضہ ہو ، طاعون ہو ، ماں اس کو چھوڑ نہیں سکتی۔ہم و 66 (ملفوظات جلد ۴، صفحه (۲۸۹)