صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 357 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 357

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۳۵۷ ۷۸ - كتاب الأدب بِحُسْنِ صَحَابَتِي قَالَ أُمُّكَ قَالَ ثُمَّ يا رسول اللہ ! کون زیادہ حق دار ہے جس سے میں مَنْ قَالَ أُمُّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ أُمُّكَ حسن معاشرت کے ساتھ پیش آؤں۔ آپ نے قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ أَبُوكَ۔ وَقَالَ فرمایا: تمہاری ماں ہے۔ اُس نے کہا: پھر کون؟ ابْنُ شُبْرُمَةَ وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا آپؐ نے فرمایا: تمہاری ماں۔ پوچھا: پھر کون؟ أَبُو زُرْعَةَ ۔۔ مِثْلَهُ۔ آپؐ نے فرمایا: تمہاری ماں۔ پوچھا: پھر کون؟ آپ نے فرمایا: پھر تمہارا باپ۔ اور ابن شبرمہ اور يحي بن ایوب نے کہا کہ ہم سے ابو زرعہ نے اسی طرح سے بیان کیا۔ تشريح : مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ الصُّحْبة: یعنی لوگوں میں سب سے بڑھ کر کس کا حق ہے کہ اس کے ساتھ حسن معاشرت سے پیش آیا جائے۔ والدین کے حقوق میں والدہ کو مقدم رکھا گیا ہے اور تین دفعہ پوچھنے پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے والدہ کا حق مقدم فرمایا۔ قرآن کریم نے بچہ کی پیدائش کے تین مراحل کو تین اندھیروں سے تعبیر کیا ہے جو دراصل اس کی زندگی کے تین خطرات ہیں جن کا سامنا رحم مادر میں بچے کو ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ اس ماں کو ہی اس بچہ کا محافظ بناتا اور ان خطرات سے اُسے با حفاظت نکالتا ہے۔ پھر زچگی اور پیدائش کی انتہائی تکالیف کا وقت، پھر بچے کی زندگی کے ابتدائی تین چار سال، پھر بچپن اور جوانی۔ غرض والدہ کا سہارا ہر آن اور ہر لمحہ بچے کی دستگیری کرتا ہے اس لئے اس کا حق بھی اُتنا ہی بڑا ہے۔ سید نا حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: وہ وقت یاد کرو جب تمہاری ماں نے تکالیف اُٹھا کر تمہاری پیدائش کے تمام مراحل طے گئے۔ پھر جب تم کسی قسم کی کوئی طاقت نہ رکھتے تھے، تمہیں پالا پوسا، تمہاری جائز و نا جائز ضرورت کو پورا کیا ۔ سب سے زیادہ خدمت کی مثال اگر دنیا میں موجود ہے تو وہ ماں کی بچے کے لئے خدمت ہی ہے۔ بچوں کا فرض ہے کہ والدین کو سنبھالیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا۔ اس نے کہا کہ : اے اللہ کے رسول ! میں نے اپنی ماں کو کیا ، صفا یمن سے اپنی پیٹھ پرا پر اُٹھا کر حج کرایا ہے ، اسے اپنی پیٹھ پر لئے ہوئے بیت اللہ کا طواف کہ