صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 356 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 356

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۳۵۶ ۷۸ - كتاب الأدب حسن سلوک کرنا اور سوم جہاد فی سبیل اللہ۔نماز حقوق اللہ میں سے اول درجہ پر ہے اور والدین سے حسن سلوک حقوق العباد میں اول درجہ پر ہے۔عنوان باب میں اسی ادب کو نمایاں کیا گیا ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” مومن کو جب اس کے ماں باپ سے اچھا معاملہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے تو پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ مومن خدا تعالیٰ سے جو ماں باپ سے بھی زیادہ محسن ہے اچھا معاملہ نہ کرے اور جب ماں باپ خد اتعالیٰ کے خلاف کوئی بات کہیں تو اُن کی بات کورڈ نہ کرے۔بہر حال اس استثناء کے سواہر انسان کا فرض ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرے اور ان کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہ کرے۔اپنے والدین کی خدمت بجالا ؤ، ورنہ تم اس جنت سے محروم ہو جاؤ گے جو تمہارے ماں باپ کے قدموں کے نیچے رکھی گئی ہے۔“ ( تفسیر کبیر، سورۃ العنکبوت، زیر آیت وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسنا - جلدی، صفحہ ۵۹۳) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرماتے ہیں: ”جو شخص اپنے ماں باپ کی عزت نہیں کرتا اور امور معروفہ میں جو خلاف قرآن نہیں ہیں اُن کی بات کو نہیں مانتا اور ان کی تعہد خدمت سے لا پروا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔“ (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 9 صفحہ ۱۹) بَاب : ٢ مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ الصُّحْبَةِ لوگوں میں سب سے بڑھ کر کس کا حق ہے کہ اس کے ساتھ حسن معاشرت سے پیش آیا جائے ٥٩٧١: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ۵۹۷۱: قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ جریر حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ بن عبد الحمید) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عمارہ بْنِ شُبْرُمَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ بن قعقاع بن شبرمہ سے ، عمارہ نے ابوزرعہ سے، أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ ابو زرعہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ روایت کی۔انہوں نے کہا: ایک شخص رسول اللہ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ مَنْ أَحَقُّ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے پوچھا: