صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 355
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۳۵۵ بسم الله الرحمن الرحيم ۷۸ - كِتَابُ الأَدب بَاب : البِرُّ وَالصَّلَةُ نیکی کرنا اور بھلائی کرنا ۷۸ - كتاب الأدب وَقَوْلُ اللهِ تَعَالَى: وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ اور اللہ تعالیٰ کا فرمانا: اور ہم نے انسان کو تاکید کی بوَالِدَيْهِ حُسْنًا (العنكبوت: ٩) ہے کہ وہ اپنے والدین سے نیک سلوک کرتارہے۔٥۹۷۰ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا ۵۹۷۰: ابو الولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے شُعْبَةُ قَالَ الْوَلِيدُ بْنُ عَيْزَارٍ أَخْبَرَنِي ہمیں بتایا۔کہا: ولید بن عیزار نے مجھے خبر دی۔قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِي کہا: میں نے ابو عمر و شیبانی سے سنا۔وہ کہتے تھے: يَقُولُ أَخْبَرَنَا صَاحِبُ هَذِهِ الدَّارِ ہیں اس گھر والے نے خبر دی اور انہوں نے وَأَوْمَا بِيَدِهِ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ اپنے ہاتھ سے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ) کے سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ گھر کی طرف اشارہ کیا۔انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ عزوجل کو کونسا عمل زیادہ پسند ہے؟ آپ نے فرمایا: اپنے وقت پر أَيُّ الْعَمَل أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ قَالَ الصَّلَاةُ عَلَى وَقْتِهَا قَالَ ثُمَّ أَيِّ نماز پڑھنا۔انہوں نے پوچھا: اس کے بعد کونسا؟ قَالَ ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ قَالَ ثُمَّ أَيِّ قَالَ آپ نے فرمایا: پھر والدین سے نیکی کرنا۔پوچھا: الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ۔قَالَ حَدَّثَنِي پھر اس کے بعد کونسا؟ آپ نے فرمایا: اللہ کی راہ بِهِنَّ وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي۔میں جہاد کرنا۔(حضرت عبد اللہ) کہتے تھے انہوں نے یہ باتیں مجھ سے بیان کیں (اور کہا: ) اگر میں آپ سے اور پوچھتا تو آپ مجھے اور بتاتے۔أطرافه ٥٢٧، ٢٧٨، ٧٥٣٤۔ریح : البر والصلة: نیکی کرنا اور بھلائی کرنا۔زیر باب حدیث میں تین باتیں پوچھی گئیں جن کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا۔اول نماز اپنے وقت پر پڑھنا۔دوم والدین سے