صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 11
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۵ کتاب المرضى السَّيْمِيِّ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ نے ابراہیم تیمی سے، ابراہیم نے حارث بن سوید عَبْدِ اللهِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ سے، حارث نے حضرت عبد اللہ سے روایت کی۔اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعَكُ انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّكَ تُوعَكُ پاس گیا اور آپ کو بخار چڑھا ہوا تھا میں نے کہا: وَعْكًا شَدِيدًا قَالَ أَجَلْ إِنِّي أُوعَك يا رسول اللہ ! آپ کو تو نہایت سخت بخار چڑھا ہے۔كَمَا يُوعَكُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ قُلْتُ آپ نے فرمایا: ہاں مجھے اتنا ہی بخار چڑھتا ہے جتنا ذَلِكَ أَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ قَالَ أَجَلْ ذَلِكَ کہ تم میں سے دو آدمیوں کو بخار چڑھتا ہے۔میں نے کہا: یہ اس لئے کہ آپ کو دہرا ثواب ہو گا۔كَذَلِكَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى - آپ نے فرمایا: ہاں یہ اس طرح ہی ہے کوئی بھی شَوْكَةٌ فَمَا فَوْقَهَا - إِلَّا كَفَّرَ اللهُ بِهَا مُسلمان نہیں جس کو تکلیف پہنچتی ہو کانٹے کی یا اس سَيِّئَاتِهِ كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا۔سے بھی کم تو اللہ ضرور اس کی وجہ سے اس کے گناہوں کو دور کر دیتا ہے جیسے درخت اپنے پتوں کو أطرافه : ٠٥٦٤٧ ٥٦٦٠، ٠٥٦٦١ ٥٦٦٧۔تشریح جھاڑ دیتا ہے۔أَشَدُّ النَّاسِ بَلاءَ الْأَنْبِيَاءُ: لوگوں میں سے سب سے بڑھ کر جن کی آزمائش کی جاتی ہے وہ انبیاء ہیں۔انبیاء پر ابتلاء ان کے تعلق باللہ کو ظاہر کرنے کے لیے آتے ہیں۔اُن کی استقامت سے پتا چلتا ہے کہ وہ مشکلات میں بھی اللہ تعالیٰ سے تعلق کو نہیں توڑتے۔نیز ان ابتلاؤں سے وہ قرب الہی کی منازل میں آگے سے آگے بڑھتے جاتے ہیں اور یہی ابتلاء ان کے لیے بڑے بڑے نشانات اور معجزات دکھانے کا باعث بنتے ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ابتلاء میں اس لئے بھی ڈالا جاتا ہے تا لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ فلاں کا ایمان کیسا ہے ورنہ یوں دوسروں کو کیا معلوم ہو سکتا ہے کہ فلاں کا ایمان پختہ ہے یا نہیں۔اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کوئی انسان جتنا بڑا ہو اس پر اتنے ہی بڑے ابتلاء آتے ہیں۔اور سب سے زیادہ ابتلاء نبیوں کو آتے ہیں۔جب انہیں متواتر تکالیف دی جاتی ہیں تو لوگ دیکھ لیتے ہیں کہ ان کا کیسا پختہ ایمان ہے۔کہتے ہیں الْاِسْتَقَامَةُ فَوْقَ الْكَرَامَةِ اور سب سے بڑی کرامت یہ