صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 351
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۳۵۱ ۷۷- کتاب اللباس بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَحَمَلَ وَاحِدًا آئے تو بنو عبد المطلب کے بچوں نے آپؐ کا بَيْنَ يَدَيْهِ وَآخَرَ خَلْفَهُ۔ أطرافه : ١٧٩٨، ٥٩٦٦۔ استقبال کیا۔ آپ نے ایک کو اپنے آگے بیٹھا لیا اور دوسرے کو اپنے پیچھے۔ بَاب ۱۰۰ : حَمْلُ صَاحِبِ الدَّابَّةِ غَيْرَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ جانور کے مالک کا کسی دوسرے کو اپنے آگے سوار کر لینا وَقَالَ بَعْضُهُمْ صَاحِبُ الدَّابَّةِ أَحَقُّ اور ان میں سے بعضوں نے کہا: جانور کا مالک بِصَدْرِ الدَّابَّةِ إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ لَهُ۔ زیادہ حق دار ہے کہ جانور کے اگلے حصے پر بیٹھے سوائے اس کے کہ وہ دوسرے کو اجازت دے۔ ٥٩٦٦ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ۵۹۲۶ : محمد بن بشار نے مجھ سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عبد الوہاب نے ہمیں بتایا کہ ایوب نے ہم سے ذُكِرَ شَرُّ الثَّلَاثَةِ عِنْدَ عِكْرِمَةَ فَقَالَ بیان کیا کہ مکرمہ کے پاس یہ ذکر کیا گیا کہ تین قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَتَى رَسُولُ اللهِ صَلَّی میں سے برا کون ہے ؟ تو انہوں نے کہا: حضرت اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ حَمَلَ قُثَمَ بَيْنَ ابن عبـ عباس کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم يَدَيْهِ وَالْفَضْلَ خَلْفَهُ أَوْ قُتَمَ خَلْفَهُ (مکہ میں آئے تو آپ نے تم کو اپنے آگے سوار وَالْفَضْلَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَأَيُّهُمْ شَرِّ أَوْ کیا اور فضل کو اپنے پیچھے یا کہا: تم کو اپنے پیچھے اور فضل کو آگے ، تو ان میں سے کون برا اور أَيُّهُمْ خَيْرٌ۔ کون بھلا ؟ أطرافه : ١٧٩٨، ٥٩٦٥۔ باب ۱۰۱ : إِرْدَافُ الرَّجُلِ خَلْفَ الرَّجُلِ ایک آدمی کا دوسرے آدمی کے پیچھے سواری پر بیٹھنا ٥٩٦٧ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ۵۹۶۷ : ہر بہ بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام