صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 347
صحیح البخاری جلد ۱۴ کے سلام سلام ۷۷۔کتاب اللباس لي فِي صَلَاتِي۔طرفه : فرمایا: مجھ سے یہ پردہ ہٹا دو کیونکہ اس کی تصویریں میری نماز میں میرے سامنے آتی رہی ہیں۔بَاب ٩٤ : لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيْهِ صُوْرَةً ملائکہ اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں مورت ہو ٥٩٦٠ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ :۵۹۶۰ يحي بن سلیمان نے ہمیں بتایا۔انہوں قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي نے کہا کہ (عبد اللہ ) بن وہب نے مجھ سے بیان عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيْهِ کیا۔انہوں نے کہا: عمر بن محمد نے مجھ سے بیان قَالَ وَعَدَ جِبْرِيلُ النَّبِيَّ صَلَّى الله کیا۔عمر نے سالم سے، سالم نے اپنے باپ سے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَاثَ عَلَيْهِ حَتَّى اشْتَدَّ روایت کی۔انہوں نے کہا: جبریل نے نبی صلی اللہ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ علیہ وسلم سے ملنے کا وعدہ کیا مگر آپ کے پاس آنے میں دیر لگائی یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پر گراں گزرا اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے۔فَلَقِيَهُ فَشَكَا إِلَيْهِ مَا وَجَدَ فَقَالَ لَهُ پھر جبریل آپ سے ملے۔آپ نے ان سے اس إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْنَا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا تكلیف کی شکایت کی جو آپ نے محسوس کی۔انہوں نے آپ سے کہا: ہم ایسے گھر میں داخل كَلْبٌ۔طرفه : ۳۲۲۷۔نہیں ہوتے جس میں مورت ہو اور نہ (اس میں) جس میں کتا ہو۔بَاب :٩٥ مَنْ لَمْ يَدْخُلْ بَيْتًا فِيْهِ صُوْرَةٌ جو ایسے گھر میں داخل نہ ہو جس میں مورت ہو ٥٩٦١ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۵۹۶۱ عبد اللہ بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔انہوں عَنْ مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ نے مالک سے ، مالک نے نافع سے ، نافع نے قاسم