صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 10
صحیح البخاری جلد ۱۴ " ۷۵ کتاب المرضى بچاتا ہے کہ لوگ ان کے اخلاق کی وجہ سے ان سے دور بھا گئیں۔تو جب اخلاق کے متعلق جو نسبتا مخفی چیز ہے یہ خدائی سنت ہے تو جسم کی گھناؤنی بیماریاں جو کہ دمہ کو نظر آنے والی چیز ہیں ان کے متعلق بدرجہ اولیٰ یہ سمجھا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کو ان سے محفوظ رکھتا ہے۔دوسری جگہ اللہ تعالیٰ ایک مامور من اللہ کے ذکر کی ذیل میں ایک لحاظ سے زیادہ صراحت کے ساتھ فرماتا ہے کہ زَادَهُ بَسْطَةٌ فِي الْعِلْمِ وَ الجسم (البقرة: ۲۴۸) یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے علمی قوتوں اور جسمانی محاسن دونوں میں امتیاز بخشا تھا اس آیت میں بھی یہی اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جن لوگوں کو اصلاح خلق کے لئے کھڑا کرتا ہے انہیں جسمانی محاسن سے بھی نوازتا ہے اور عقلا بھی ایسا ہی ہونا چاہیئے۔ورنہ کئی لوگ ایک ٹولے لنگڑے اور کریہہ المنظر انسان کی اقتداء قبول کرنے سے طبعاً گھبرائیں اور حق کی اشاعت میں روک پیدا ہو جائے۔اسی اصول پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اکثر فرمایا کرتے تھے کہ گو اللہ تعالیٰ کے نزدیک اصل چیز ایمان اور تقویٰ ہے۔جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے: اِنَّ اكرمكم عِندَ اللهِ اتَّقُكُمُ (الحجرات: ۱۴) مگر باوجود اس کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے تھے کہ عوام الناس کو ٹھوکر سے بچانے کے لئے خدا کی یہ سنت ہے کہ وہ اپنے رسولوں کو عرف عام میں معزز سمجھے جانے والی قوموں میں سے مبعوث فرماتا ہے تاکہ کسی کو انگشت نمائی کا موقع نہ ملے اور صداقت سے روگردانی کا بہانہ نہ پیدا ہو جائے۔پس یہ بات اصولاً درست ہے کہ ایک نبی کو کسی قسم کی گھناؤنی بیماری جذام وغیرہ کی قسم کی نہیں ہوا کرتی۔(مضامین بشیر جلد ۳، صفحہ ۶۵۴تا۶۵۷) بَاب : أَشَدُّ النَّاسِ بَلَاءِ الْأَنْبِيَاءُ ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ لوگوں میں سے سب سے بڑھ کر جن کی آزمائش کی جاتی ہے وہ انبیاء ہیں۔پھر اسی طرح جتنا اعلیٰ درجے کا آدمی ہو گا اتنی ہی زیادہ اس کی آزمائش ہو گی ٥٦٤٨: حَدَّثَنَا عَبْدَانُ عَنْ أَبِي :۵۶۴۸ عبدان نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابو حمزہ حَمْزَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ ( محمد بن میمون) سے ، ابو حمزہ نے اعمش سے ، اعمش