صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 9
صحیح البخاری جلد ۱۴ १ ۷۵ - كتاب المرضى لی الیوم کے متعلق فرماتا ہے : وَمَا صَاحِبُكُم بِمَجْنُونِ (التکویر :۲۳) اور ایک اور جگہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تعلق میں مخالفوں کی شرارت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے : ان رماتا ہے : اِنَّ رَسُولَكُمُ الَّذِي أُرْسِلَ إِلَيْكُمُ لَمَجْنُونَ (الشعراء: ۲۸) یعنی اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کوئی رسول بھی تیرے زمانہ سے پہلے ایسا نہیں آیا جسے دشمنوں نے ساحر یا مجنون کہہ کر اپنے دل کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش نہ کی ہو۔ اور اسے عرب کے لوگو! کیا تم آنکھیں رکھتے ہوئے دیکھتے نہیں کہ ہمارا یہ رسول خدا کے فضل سے دیوانہ نہیں ہے ۔ اور حضرت موسیٰ کے مخالفوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ وہ ازراہ شرارت یہ افتراء باندھا کرتے تھے کہ یہ شخص جو رسالت کا مدعی بنتا ہے یہ تو مجنون ہے وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح اور بہت سے مقامات پر قرآن مجید میں نبوت اور جنون کو متضاد بیان کر کے اس کی زور دار نفی کی گئی ہے یہی اصول مرگی جیسے مرض پر چسپاں ہوتا ہے۔ جس میں بعض اوقات ایک حد تک جنون سے ملتی جلتی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس لئے جب ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو رویا میں دکھایا گیا کہ ایک کریہہ المنظر شیطان سیرت جانور آپ کی طرف آرہا ہے اور آپ کے دل میں ڈالا گیا کہ یہ صرع یعنی مرگی کا مرض ہے تو آپ نے خدائی القاء کے ماتحت بڑے جوش اور نفرت کے ساتھ فرمایا کہ : ”دور ہو تیرا مجھ میں حصہ نہیں تذکرہ صفحہ ۶۸۵ و صفحه ۱۴)۔۔۔ اب رہیں جذام وغیرہ قسم کے امراض جن میں انسان کا جسم بہت گھناؤنی شکل اختیار کر لیتا ہے جسے لوگ دیکھ کر دور بھاگتے ہیں۔ قرآن ہمارے آقا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرماتا ہے : فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللهِ لِنْتَ لَهُمْ وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَا نُفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ (ال عمران : ۱۶۰) یعنی اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ خدائی رحمت کا حصہ ہے کہ تو اپنے اصحاب کے لئے دل کا نرم بنایا گیا ہے ورنہ اگر تو کرخت اور دل کا سخت ہوتا تو یہ لوگ جو اب تیرے قدموں کے ساتھ چمٹے بیٹھے ہیں تجھ سے ہٹ کر پرے چلے جاتے ۔“ اس آیت کریمہ میں یہ لطیف اصول بیان کیا گیا ہے کہ نبیوں کو اللہ تعالٰی اپنے فضل سے ایسے درشت اور کرخت اخلاق سے