صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 333
صحیح البخاری جلد ۱۴ بَاب ٨٤: الْمُتَنَمِّصَاتُ چہرے پر سے روئیں نکالنے والیاں ۷۷۔کتاب اللباس ٥٩٣٩: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيْمَ :۵۹۳۹ اسحاق بن ابراہیم (بن راہویہ ) نے ہم أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سے بیان کیا کہ جریر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے إِبْرَاهِيْمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ لَعَنَ منصور سے، منصور نے ابراہیم (شخصی) سے، عَبْدُ اللهِ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ ابراہیم نے علقمہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ حضرت عبد الله ( بن مسعود) نے گودنے والیوں خَلْقَ اللَّهِ۔فَقَالَتْ أُمُّ يَعْقُوْبَ مَا هَذَا اور چہرے پر سے بال نکالنے والیوں اور خوبصورتی کے لئے دانتوں کے کشادہ کرنے والیوں کو جو اللہ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَمَا لِي لَا أَلْعَنُ مَنْ کی پیدائش میں تبدیلی کرتی ہیں لعنتی قرار دیا۔لَعَنَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اُم یعقوب یہ سن کر کہنے لگیں: یہ کیا ہے ؟ حضرت وَفِي كِتَابِ اللهِ۔قَالَتْ وَاللَّهِ لَقَدْ عبد اللہ نے کہا: مجھے کیا ہے کہ میں ان پر لعنت نہ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ اللَّوْحَيْنِ فَمَا وَجَدْتُهُ کروں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فَقَالَ وَاللَّهِ لَئِنْ قَرَأْتِيهِ لَقَدْ وَجَدْتِيْهِ وَ کی اور کتاب اللہ میں بھی ایسا ہی ہے۔کہنے لگیں: مَا الكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهُكُمْ اللہ کی قسم میں نے ان دو جلدوں میں جو ہے اس کو پڑھا ہے میں نے تو یہ نہیں پایا۔انہوں نے کہا: اللہ کی قسم اگر تم نے اس کو پڑھا ہو تا تو ضرور اس عَنْهُ فَانْتَهُوا (الحشر: ٨) أطرافه : ٤٨٨٦، ٤٨٨٧، کو پالیتی یعنی جو رسول تم کو دے اس پر عمل کرو اور جس سے تم کو روکے اس سے رک جاؤ۔٥٩٤، ٥٩٤٨۳ ،۰۹۳۱ بَاب ٨٥ : الْمَوْصُوْلَةُ جس عورت کے بالوں میں چٹلا لگایا جائے ٥٩٤٠ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ۵۹۴۰: محمد بن سلام) نے مجھ سے بیان کیا کہ