صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 332
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۷- كتاب اللباس فَاطِمَةَ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنی بیوی فاطمہ قَالَتْ لَعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ( بنت مندر) سے، فاطمہ نے حضرت اسماء بنت وَسَلَّمَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ۔ابی بکر سے روایت کی۔وہ کہتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں میں جوڑ لگانے والی اور لگوانے والی کو لعنتی قرار دیا۔٥٩٣٧ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِل ۵۹۳۷: محمد بن مقاتل نے مجھ سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللهِ عَنْ عبد الله بن مبارک) نے ہمیں خبر دی کہ نَافِعِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عبید اللہ نے ہمیں بتایا۔عبید اللہ نے نافع سے ، نافع أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی قَالَ لَعَنَ اللهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ که رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے چٹلا لگانے والی اور لگوانے والی اور گودنے والی اور وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ۔وَقَالَ نَافِعٌ کروانے والی کو اپنی رحمت سے دور رحمت سے دور رکھا ہے۔نافع نے کہا: مسوڑے کو بھی گودا جاتا ہے۔الْوَشْمُ فِي اللَّئَةِ۔أطرافه : ٥٩٤٠، ٥٩٤٢، ٥٩٤٧۔٥۹۳۸ : حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ :۵۹۳۸ آدم بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ سَمِعْتُ سَعِيدَ که شعبه ( بن حجاج) نے ہمیں بتایا کہ عمرو بن مرہ بْنَ الْمُسَيَّبِ قَالَ قَدِمَ مُعَاوِيَةُ نے ہم سے بیان کیا۔(عمرو نے کہا:) میں نے الْمَدِينَةَ آخِرَ قَدْمَةٍ قَدِمَهَا فَخَطَبَنَا سعيد بن مسیب سے سنا۔سعید نے کہا: حضرت فَأَخْرَجَ كُبَّةَ مِنْ شَعَرٍ قَالَ مَا كُنْتُ معاویہ جب آخری بار مدینہ میں آئے انہوں نے ہمیں مخاطب کیا اور بالوں کا چٹلا نکالا اور کہنے أَرَى أَحَدًا يَفْعَلُ هَذَا غَيْرَ الْيَهُوْدِ إِنَّ لگے: میں سوائے یہود کے کسی کے متعلق نہیں سمجھتا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمَّاهُ تھا کہ وہ ایسا کرتا ہو گا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم النُّورَ۔يَعْنِي الْوَاصِلَةَ فِي الشَّعَرِ۔نے اس کا نام فریبی رکھا ہے یعنی اس عورت کا نام جو بالوں میں جو ڑالگاتی ہے۔أطرافه : ٣٤٦٨، ٣٤٨٨ ٥٩٣٢۔