صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 329 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 329

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۳۲۹ ۷۷ - كتاب اللباس رجحان ایک فیشن کی صورت اختیار کر رہا تھا جس کو سختی سے روکا گیا۔برائی کو روکنے کیلئے بعض ایسے امور کو بھی منع کرنا پڑتا ہے جو فی ذاتہ غلط نہیں ہوتے مگر برائی کو جڑ سے اکھیڑنے کیلئے اور اس ماحول کو ہر قسم کی آلودگی سے پاک کرنے کیلئے بعض جائز امور پر بھی وقتی پابندی یا قدغن لگانی پڑتی ہے، جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کی حرمت کے ساتھ ان برتنوں کو بھی توڑنے کا حکم دیا جن میں شراب بنتی تھی۔مگر جب وہ ماحول ختم ہو گیا تو آپ نے کسی کے پوچھنے پر فرمایا اگر کوئی اور برتن میسر نہ ہوں تو شراب والے ان برتنوں کو دھو کر تم استعمال کر سکتے ہو۔(صحیح بخاری، کتاب الاشربة، بأب ترخيص النبي ﷺ فى الأوعية والظروف بعد النہی) اصل بات نیت کی ہے انما الاعمال بالنیات۔پس اگر کسی مرد یا عورت کے بال قدرتی طور پر نہ ہوں یا کسی بیماری کے سبب جھڑ جائیں تو وہ مصنوعی بال یادگ و غیرہ استعمال کر سکتے ہیں مگر اس میں دھوکا دہی، فریب اور امر واقعہ کے چھپانے کی ایسی کوشش نہ ہو جو دوسروں کو نقصان یا اذیت پہچانے کا باعث بنے۔مثلا کسی لڑکی یا لڑکے کا رشتہ ہونا ہو تو دھوکے سے ایسی مصنوعی چیزوں کو استعمال کر کے رشتے قائم کر لیتا جو اصل حقیقت کھلنے پر ان رشتوں کے ٹوٹنے اور خاندانوں میں ناچاقی کا باعث بنیں ، منع ہے۔ایسی دھوکا دہی کے متعلق روایت میں آتا ہے إِنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَمَاهُ الزُّورَ يَعْنِى الْوَاصِلَةَ فِي الشَّعَرِ (روایت نمبر ۵۹۳۸) کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام فریبی رکھا ہے یعنی اس عورت کا نام جو بالوں میں جوڑا لگاتی ہے۔پس دھوکا دہی یا فریب نہیں ہونا چاہیے۔آج کے زمانہ میں بھی اس کی بہت سی شکلیں معاشرے کو زہر آلود کر رہی ہیں۔ایسے امور کو آغاز میں ہی پکڑ لیا جائے اور اس کی بیخ کنی کر دی جائے تو خس کم جہاں پاک کی یہ ایک حکیمانہ صورت ہے۔بَابِ ۸۳: وَصْلُ الشَّعَرِ بالوں میں پیوند لگانا ٥٩٣٢: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيْلُ قَالَ ۵۹۳۲: اسماعیل بن ابی اولیس) نے ہم سے بیان حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ کیا انہوں نے کہا کہ مالک نے مجھے بتایا۔انہوں حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهُ نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے حمید بن سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ عَامَ عبد الرحمن بن عوف سے روایت کی کہ انہوں نے حَجَّ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ حضرت معاویہ بن ابی سفیان سے سنا۔جس سال وَتَنَاوَلَ قُصَّةٌ مِنْ شَعَرٍ كَانَتْ بِيَدِ انہوں نے حج کیا اور وہ منبر پر تھے اور کہہ رہے حَرَسِي أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ سَمِعْتُ تھے اور انہوں نے بالوں کا ایک چٹلا لیا جو ان کے