صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 328
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۳۲۸ ۷۷ - كتاب اللباس عَنْ عَبْدِ اللهِ لَعَنَ اللهُ الْوَاشِمَاتِ نے منصور (بن معتمر ) سے منصور نے ابراہیم (شخصی) وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ وَ الْمُتَنَمِّصَاتِ سے، ابراہیم نے علقمہ سے، علقمہ نے حضرت وَالْمُتَفَلِجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ عبد الله بن مسعود ) سے روایت کی کہ اللہ نے خَلْقَ اللَّهِ تَعَالَى مَالِي لَا أَلْعَنُ مَنْ گودنے والیوں اور گدوانے والیوں کو اور چہرے لَعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے روییں نکالنے والیوں اور خوبصورتی کے لئے وَهُوَ فِي كِتَابِ اللهِ وَمَا الكُمُ الرَّسُولُ دانت کشادہ کرانے والیوں کو جو اللہ تعالیٰ کی بناوٹ فَخُذُوهُ إِلَى فَانْتَهُوا (الحشر: ۸)۔کو تبدیل کرنے والیاں ہیں، پر لعنت کی ہے۔مجھے کیا ہے کہ میں ان کو لعنتی نہ ٹھہراؤں جن کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنتی ٹھہرایا ہے حالانکہ یہ حکم کتاب اللہ میں ہے یعنی جو رسول نے تمہیں دیا ہے اس کولو۔اور جس سے تمہیں رو کے اُس سے رُک جاؤ۔أطرافه : ٤٨٨٦ ٤٨٨٧، ٥٩٣٩، ٥٩٤، ٥٩٤٨۔ریح الْمُتَفَرِّجَاتُ لِلْحُسْنِ: خوبصورتی کے لئے جو عور تیں دانت کشادہ کراتی ہیں۔ابواب ۸۲ تا ۷ ۸ ان روایات پر مشتمل ہیں جن میں ایسی عورتوں کا ذکر ہے جو فیشن کے طور پر اپنے دانتوں کو ریخدار بناتی تھیں، چہرے کے بالوں کو صاف کرتی تھیں، جسم پر گوند واکر Tattoos بناتی تھیں تا کہ مختلف قسم کے نقش و نگار بنا کر اپنے حسن کو ظاہر کریں، اسی طرح بعض عورتیں بالوں کے جوڑے یا چٹلے لگاتی تھیں۔ان تمام امور کو سختی سے منع کیا گیا ہے اور ان عورتوں پر لعنت کی گئی ہے۔اسلام زیب و زینت کو تو ہر گز منع نہیں کرتا بلکہ إِنَّ اللهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ ( اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے) کے مطابق خوبصورتی کو خدا کی بندگی کی علامت قرار دیا گیا ہے اور قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لعبادة (الاعراف: ۳۳) تو کہہ دے کہ اللہ کی اس زینت کو جس کو اس نے اپنے بندوں کے لئے نکالا ہے، کس نے حرام کیا ہے ؟ پس ان روایات میں جس طبقہ نسواں کی مذمت کی گئی ہے اور جن امور کو سخت وعید کے ساتھ روکا گیا ہے وہ ہر گز زیب وزینت نہیں بلکہ کچھ اور ہی ہے۔ان روایات سے مترشح ہوتا ہے کہ معاشرے میں عریانی، فحاشی اور آوارگی کا ا (صحیح مسلم، کتاب الايمان بَابُ تَحْرِيمِ الْكِبْرِ وَبَيَانِهِ)