صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 327
صحیح البخاری جلد ۱۴ رَضِيَ ۳۲۷ ۷۷- كتاب اللباس اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ لَا يَرُدُّ انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ خوشبو کورڈ الطَّيِّبَ وَزَعَمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله نہیں کیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَرُدُّ الطَّيْبَ۔علیہ وسلم خوشبو کورڈ نہیں کیا کرتے تھے۔طرفه : -٢٥٨٢ : بَاب ۸۱: الذَّرِيرَةُ ذریرہ خوشبو ٥٩٣٠ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ أَوْ :۵۹۳۰ عثمان بن ہیثم نے ہم سے بیان کیا، یا محمد مُحَمَّدٌ عَنْهُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي ( بن یحی) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابن جریج عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُرْوَةَ سَمِعَ سے روایت کی کہ عمر بن عبد اللہ بن عروہ نے عُرْوَةَ وَالْقَاسِمَ يُحْبِرَانِ عَنْ عَائِشَةَ مجھے بتایا۔عمر نے عروہ اور قاسم (بن محمد ) سے سنا قَالَتْ طَيِّبْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى الله ان دونوں نے حضرت عائشہ سے روایت کی۔آپ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ بِذَرِيْرَةٍ فِي حَجَّةِ فرماتی تھیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الْوَدَاعِ لِلْحِلِ وَالْإِحْرَامِ۔أطرافه : ١٥٣٩، ۱٧٥٤، ۰۹۲۲، ۰۹۲۸ کو اپنے ہاتھ سے حجتہ الوداع میں جب کہ آپ نے احرام کھولا اور احرام باندھا زریرہ کی خوشبولگائی۔تشریح۔الديرة: ذریرہ خوشبو۔علامہ کرمانی کہتے ہیں یہ خوشبو پاؤڈر کی شکل میں ہوتی ہے۔علامہ نودی کہتے ہیں یہ ایک خاص لکڑی کا برادہ ہے جو ہندوستان سے لایا جاتا تھا۔علامہ داودی نے کہا اس کے مفردات کو جمع کیا جاتا ہے پھر ان کو پیسا جاتا ہے پھر چھانا جاتا ہے اس سفوف کو بالوں میں چھڑ کا جاتا ہے اسی لیے اس کا نام ذریرہ یعنی چھٹر کی گئی کے ہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۲۲ صفحہ ۶۲) باب ۸۲: الْمُتَفَلِّجَاتُ لِلْحُسْنِ خوبصورتی کے لئے جو عورتیں دانت کشادہ کراتی ہیں :٥٩٣١ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ۵۹۳۱: عثمان ( بن ابی شیبہ ) نے ہم سے بیان کیا عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيْمَ عَنْ عَلْقَمَةَ که جریر بن عبد الحمید) نے ہمیں بتایا۔انہوں