صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 326
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۳۲۶ ۷۷۔کتاب اللباس ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصَّوْمَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) بنی آدم کے تمام أَجْزِي بِهِ۔وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ کام اس کے لئے ہیں سوائے روزے کے کیونکہ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيْحِ الْمِسْكِ۔وہ میرے لئے ہے اور میں اس کا بدلہ دوں گا اور روزے دار کے منہ کی بو اللہ کو مشک کی خوشبو أطرافه : ١٨٩٤، ١٩٠٤، ٧٤٩٢، ٧٥٣٨- سے بھی زیادہ پسند ہے۔باب ۷۹: مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الطَّيْبِ خوشبو لگانا جو پسندیدہ ہے ۵۹۲۸ : حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ :۵۹۲۸ موسیٰ بن اسماعیل) نے ہمیں بتایا کہ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ وہیب نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام بن عروہ) عَنْ أَبِيْهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ الله عنها نے ہمیں بتایا، ہشام نے عثمان بن عروہ سے ، عثمان قَالَتْ كُنْتُ أُطَيْبُ النَّبِيَّ صَلَّى الله نے اپنے باپ سے ، ان کے باپ نے حضرت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ إِحْرَامِهِ بِأَطْيَبِ مَا عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔آپ فرماتی تھیں: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام أَجِدُ۔باندھتے وقت عمدہ سے عمدہ خوشبو جو مجھے ملتی لگایا کرتی تھی۔أطرافه : ۱۵۳۹، 1754، ۰۹۲۲، ٥٩٣٠۔باب ۸۰: مَنْ لَمْ يَرُدَّ الطَّيْبَ جو خوشبو کو ر ڈ نہ کرے ٥٩٢٩: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا :۵۹۲۹ ابونعیم نے ہمیں بتایا کہ عزرہ بن ثابت عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتِ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ انصاری نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: حَدَّثَنِي ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسٍ ثمامہ بن عبد اللہ نے مجھے بتایا۔ثمامہ نے حضرت