صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 8 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 8

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۵ کتاب المرضى فرماتا ہے کہ قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى ائی۔یعنی اے رسول تو لوگوں سے کہہ دے کہ میں تمہاری طرح کا ایک انسان ہوں (اور تمام ان قوانین کے تابع ہوں جو دوسرے انسانوں کے ساتھ لگے ہوئے ہیں) ہاں میں یقیناً خدا کا ایک رسول بھی ہوں اور خدا کی طرف سے مخلوقِ خدا کی ہدایت کے لئے وحی و الہام سے نوازا گیا ہوں۔“ اس لطیف آیت میں انبیاء کی دوہری حیثیت کو نہایت عمدہ طریق پر بیان کیا گیا ہے۔یعنی انہیں ایک جہت سے دوسرے انسانوں سے ممتاز کیا گیا ہے اور دوسری جہت سے ان کو دوسرے انسانوں کی صف سے باہر نہیں نکلنے دیا گیا۔پس جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ انبیاء بشری لوازمات اور انسان کے طبعی خطرات سے بالا ہوتے ہیں وہ جھوٹا ہے۔یقیناً انبیاء بھی اسی طرح بیمار ہوتے ہیں جس طرح کہ دوسرے انسان بیمار ہوتے ہیں۔وہ ملیریا بخار ، ٹائیفائڈ (ضمناً یاد رکھنا چاہئے کہ جہاں تک ظاہری علامات مندرجہ حدیث و تاریخ سے پتہ چلتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مرض ٹائیفائڈ سے فوت ہوئے تھے ) سل ، دق، دمہ ،نزلہ، کھانسی، نقرس، دورانِ سر ، پھوڑے پھنسیاں، آنکھوں کا آشوب، جسم کے درد، جگر کی بیماری، اسہال کی بیماری، انتریوں کی بیماری، گردے کی بیماری، پیشاب کی بیماری، دانتوں کی تکلیف، اعصابی تکلیف ، ذکاوت حس ، گھبراہٹ اور بے چینی ، دماغی کوفت ، نسیان، حوادث کے نتیجہ میں چوٹیں اور زخم ، لڑائی کی ضربات وغیرہ وغیرہ سب کی زد میں آسکتے ہیں اور آتے رہے ہیں۔سوائے اس کے کسی خاص نبی کو خدا کی طرف سے استثنائی طور پر کسی خاص بیماری سے حفاظت کا وعدہ ہو۔“ (مضامین بشیر، جلد ۳، صفحہ ۶۵۱) نیز حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں: " جنون اور جذام وغیرہ۔۔کی بیماریوں کے متعلق قرآن مجید واضح طور پر نبیوں کے بارے میں نفی فرماتا ہے۔۔۔خدا تعالیٰ قرآن مجید میں تمام رسولوں کے بارے میں اصولی طور پر فرماتا ہے : كَذلِكَ مَا آتَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا قَالُوا سَاحِرُ أَوْ مَجْنُونَ (الذاریات: ۵۳) اور دوسری جگہ مخصوص طور پر آنحضرت