صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 316
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۳۱۶ ۷۷- کتاب اللباس الدَّجَّالَ فَقَالَ إِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ کے پاس تھے کہ لوگوں نے دجال کا ذکر کیا۔ ایک عَيْنَيْهِ كَافِرٌ۔ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَمْ شخص نے کہا: اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان أَسْمَعْهُ قَالَ ذَاكَ وَلَكِنَّهُ قَالَ أَمَّا کافر لکھا ہو گا اور حضرت ابن عباس نے کہا: میں إِبْرَاهِيمُ فَانْظُرُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ وَأَمَّا نے نہیں سنا کہ آپ نے یہ فرمایا۔ لیکن آپ نے مُوسَى فَرَجُلٌ آدَمُ جَعْدٌ عَلَى جَمَلٍ یہ فرمایا کہ جو ابراہیم ہیں تو تم اپنے ساتھی موسیٰ ہیں أَحْمَرَ مَخْطُومٍ بِخُلْبَةٍ كَأَنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ (آنحضرت صلی اللام) کو دیکھ لو اور جو مو إِذْ انْحَدَرَ فِي الْوَادِي يُلَبِّي۔ تو وہ گندم گوں گھنگھریالے بالوں والے شخص ہیں جو سرخ اونٹ پر سوار ہو جسے ایک کھجور کی چھال أطرافه : ١٥٤٠، 1549، 5914۔ کی نکیل پڑی ہو ان کی شکل میرے ذہن میں ایسی ہے جیسے میں ان کو ابھی دیکھ رہا ہوں کہ وہ اس وادی میں لبیک کہتے ہوئے اترے ہیں۔ تشریح : الجعد: گھنگھریالے بال۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیے کا ذکر ہے کہ آ کا ذکر ہے کہ آپ کے بال کچھ خمدار تھے نہ بالکل سیدھے تھے اور نہ ہی گھنگھریالے تھے۔ (روایت نمبر ۵۹۰۵) بنی اسرائیلی عیسی کے حلیہ میں گھنگریالے بالوں کا ذکر ہے جبکہ آنے والے مسیح کے بال سیدھے بیان کیے گئے ہیں جیسا کہ بخاری کی احادیث میں بنی اسرائیلی مسیح اور محمدی مسیح کے حلیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے الگ الگ بیان فرمائے۔ جس سے یہ امر اظہر من الشمس ہوتا ہے کہ وہ دو الگ الگ وجود ہیں۔ آنے والے مسیح کے حلیہ کیلئے دیکھئے کتاب أَحَادِيثِ الأَنْبِيَاءِ بَابُ قَوْلِ اللهِ وَاذْكُرْ فِي الكِتَابِ مَرْيَمَ إِذِ انْتَبَلَتْ مِنْ أَهْلِهَا۔ بنی اسرائیلی مسیح کے حلیے کیلئے دیکھے كِتَابُ أَحَادِيثِ الأَنْبِيَاءِ ، هَلْ أَتْكَ حَدِيثُ مُوسَى بَاب ٦٩ : التَّلْبِيدُ بالوں کا جمانا ٥٩١٤ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۵۹۱۴: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے ، زہری نے