صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 317
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۳۱۷ ۷۷ - كتاب اللباس سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ کہا مجھے سالم بن عبد اللہ نے بتایا کہ حضرت عبد اللہ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ الله بن عمر نے کہا میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ عَنْهُ يَقُولُ مَنْ ضَفَّرَ فَلْيَحْلِقُ وَلَا سے سنا۔وہ کہتے تھے: جس نے سر کے بالوں کو تَشَبَّهُوا بِالتَّلْبِيدِ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ گوندا ہو تو وہ منڈ والے اور جس طرح احترام میں يَقُولُ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى بالوں کو جمالیتے ہیں ویسے نہ جمایا کرو اور حضرت ابن عمرؓ کہا کرتے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سر کے بال جمائے ہوئے دیکھا۔اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُلَيّدًا۔أطرافه : 15٤٠، 1549، 5915۔٥٩١٥ : حَدَّثَنِي حِبَّانُ بْنُ مُوسَی ۵۹۱۵: حبان بن موسیٰ اور احمد بن محمد نے مجھ وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ سے بیان کیا۔ان دونوں نے کہا کہ عبد اللہ (بن اللَّهِ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ (مبارک) نے ہم سے بیان کیا، یونس نے ہمیں سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا خبر دی، یونس نے زہری سے، زہری نے سالم قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله سے، سالم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلَّ مُلَبَدًا يَقُولُ لَبَّيْكَ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ سر کے بال جما کر اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ یوں لبیک کہہ رہے تھے۔یعنی میں حاضر ہوں، الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا اے میرے اللہ میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک شَريكَ لَكَ لَا يَزِيدُ عَلَى هَؤُلَاءِ نہیں، میں حاضر ہوں، ہر خوبی اور ہر ایک نعمت الْكَلِمَاتِ۔أطرافه : 15٤٠، 1549، 5914۔تیری ہی ہے اور بادشاہی بھی تیری ہی ہے۔تیرا کوئی شریک نہیں۔ان کلمات سے زیادہ نہیں بڑھاتے تھے۔٥٩١٦ : حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ قَالَ :۵۹۱۶ اسماعیل بن ابی اولیس) نے مجھ سے حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بیان کیا۔کہا مالک نے مجھے بتایا۔انہوں نے نافع