صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 7 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 7

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۵ کتاب المرضى ٥٦٤٧: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ :۵۶۴۷ محمد بن یوسف (فریابی) نے ہم سے حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔اُنہوں إِبْرَاهِيمَ السَّيْمِيِّ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ نے اعمش سے، اعمش نے ابراہیم تیمی سے، ابراہیم سُوَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نے حارث بن سوید سے، حارث نے حضرت أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نہ سے روایت کی کہ میں نبی صلی ال نیم کے پاس آپ کی بیماری میں آیا فِي مَرَضِهِ وَهُوَ يُوعَكُ وَعْدًا شَدِيدًا اور آپ کو نہایت سخت بخار چڑھا ہوا تھا اور میں وَقُلْتُ إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا نے کہا: آپ کو تو نہایت سخت بخار چڑھا ہوا ہے۔قُلْتُ إِنَّ ذَاكَ بِأَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ قَالَ میں نے کہا: یہ اس لئے ہے کہ آپ کو دہر اثواب أَجَلْ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى إِلَّا ہو۔آپ نے فرمایا: ہاں کوئی بھی ایسا مسلمان حَانَّ اللَّهُ عَنْهُ خَطَايَاهُ كَمَا تَحَاتُ نہیں کہ جس کو کوئی تکلیف پہنچے مگر ضرور ہی اللہ اس سے اس کے قصوروں کو جھاڑ دے گا جیسے وَرَقُ الشَّجَرِ۔درخت کے پتے جھڑ جاتے ہیں۔أطرافه : ٠٥٦٤٨ ٠٥٦٦٠ ٠٥٦٦١ ٥٦٦٧- تشریح: شدة المرض: بیاری کی سختی زیر باب روایات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کی انتہائی تکلیف کا ذکر کیا گیا ہے۔یہ امر یا درکھنے کے لائق ہے کہ بلاشبہ انبیاء خدا کے مقرب اور سب سے پیارے وجود ہوتے ہیں اور ان کی حفاظت خدا تعالیٰ معجزانہ رنگ میں فرماتا ہے اور ہمارے سید و مولی حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کا تو خدا تعالیٰ نے خاص وعدہ فرمایا ہے تاہم انبیاء اپنے تمام تر کمالات کے باوجو د بشر ہوتے ہیں اور بشری لوازم اور تقاضے ان کے ساتھ لگے ہوتے ہیں۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ہر نبی کی دوہری حیثیت ہوتی ہے۔ایک پہلو کے لحاظ سے وہ خدا کا نبی اور رسول ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ خدا کے کلام سے مشرف ہوتا ہے اور دینی امور میں اپنے متبعین کا استاد قرار پاتا اور ان کے لئے اُسوہ بنتا ہے۔اور دوسرے اس پہلو کے لحاظ سے وہ انسانوں میں سے ایک انسان ہوتا ہے اور تمام ان بشری لوازمات اور طبعی خطرات کے تابع ہوتا ہے جو دوسرے انسانوں کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔اسی لئے اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے