صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 310
صحیح البخاری جلد ۱۴ رَضِيَ ۷۷- كتاب اللباس اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی سے ان دونوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى سے روایت کی۔حضرت ابو ہریرہ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود و نصاریٰ خضاب لَا يَصْبُغُونَ فَخَالِفُوهُمْ۔طرفه : ٣٤٦٢ - نہیں لگاتے تم ان کے خلاف کرو۔شریح۔الخضاب: خضاب لگانا) حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب فرماتے ہیں: ”یہود و نصاریٰ اور اقوام غیر مسلمہ پر مسلمان اس وقت تک اثر انداز رہے جب تک وہ اپنے آپ کو ذہنی لحاظ سے ان پر فائق و غالب سمجھتے تھے۔خضاب سے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت اور آپ کا ارشاد فَخَالِفُوهُمْ اسی ذہنی غلبہ و تفوق کو محفوظ رکھنے کی غرض سے ہے ورنہ اچھی باتیں اخذ کرنے کی مطلق ممانعت نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کلمہ حکمت ضَالَّهُ الْمُؤْمِن یعنی مومن کی کھوئی ہوئی پونجی قرار دی ہے۔جہاں وہ پائے اسے لے لینے کا حکم ہے۔الْحِكْمَةُ ضَالَهُ الْمُؤْمِنِ يَأْخُذُهَا حَيْثُ وَجَدَهَا۔مسلمان جب تک اپنے ذہنی رجحان اور میلان طبع میں صالح و غالب تھے دوسروں پر اثر انداز ہوتے رہے یہاں تک کہ جب ان کا یہ ذہنی غلبہ ختم ہوا ان کی مغلوبیت اور تقلید اعمی (اندھی) کی تاریخ شروع ہوتی ہے اور یہ وہ زمانہ ہے جو یورپ کی تاریخ میں عہد تجدد و احیائے ثانی (Renaissance) کے نام سے مشہور ہے۔سولہویں اور سترھویں صدی عیسوی کے دوران اس نے مسلمانوں پر طرز معاشرت میں اپنا اثر ڈالنا شروع کیا اور وہ اس سے اثر پذیر ہونے لگے۔“ ( صحیح بخاری ترجمه و شرح کتاب احادیث الانبیاء، حدیث ابرض و أعمى وأقرع، جلد ۶ صفحه ۴۵۶،۴۵۵) حضرت مسیح موعود کا وسمہ اور مہندی استعمال کرنا۔حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب روایت کرتے ہیں: ابتدائے ایام میں آپ وسمہ اور مہندی لگا یا کرتے تھے پھر۔۔۔سر اور ریش مبارک پر آخر عمر تک مہندی ہی لگاتے رہے۔وسمہ ترک کر دیا تھا۔البتہ کچھ روز انگریزی وسمہ بھی استعمال فرمایا مگر پھر ترک کر دیا۔آخری دنوں میں میر حامد شاہ صاحب (المدخل إلى السنن الكبرى للبيهقى، باب ما يخشى من زلة العالم فى العلم أو العمل، جزء ۲ صفحه ۲۱۶)