صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 301
صحیح البخاری جلد ۱۴ اسم ۷۷۔کتاب اللباس تشريح : لَعَنَ النَّبِيُّ ﷺ الْمُخَتَثِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالْمُتَرَ جَلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ: نبي صلى الله علیہ وسلم نے ان مردوں پر لعنت کی جو مخنث بنیں اور ان عورتوں پر لعنت کی جو مردوں کی طرح بنیں۔محبت، انحناث سے ماخوذ ہے اس کا معنی ہے موڑنا، نرم کرنا، ہیجڑا بنانا علامہ عینی نے کہا ہے مخنث وہ شخص ہے جو اپنے اقوال و افعال میں عورتوں کے مشابہ ہو، یہ مشابہت خلقی بھی ہو سکتی ہے اور تکلف اور تصنع سے بھی اختیار کی ہوئی ہو سکتی ہے۔تکلف اور بناوٹ سے اپنے آپ کو مخنث بنانے والے کی مذمت کی گئی ہے۔طبرانی نے وائلہ بن الا سقع سے روایت کی ہے کہ جس شخص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکالا تھا وہ سیاہ فام غلام انجشہ تھا جو عورتوں کے اونٹوں کو چلاتا تھا۔(عمدۃ القاری جزء ۲۲ صفحہ ۴۲) جبکہ بعض کے نزدیک اس سے مراد ھیت ہے جس کا ذکر روایت نمبر ۵۸۸۷ میں ہے۔۔بَاب ٦٣ : قَصُّ الشَّارِبِ مونچھوں کا چھوٹا کرنا وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُحْفِي شَارِبَهُ حَتَّى اور حضرت ابن عمرؓ اپنی مونچھیں اتنی چھوٹی يُنظَرَ إِلَى بَيَاضِ الْجِلْدِ وَيَأْخُذُ کرتے تھے کہ کھال کی سفیدی دکھائی دیتی تھی هَذَيْنِ يَعْنِي بَيْنَ الشَّارِبِ وَاللَّحْيَةِ۔اور دونوں طرف کے ان بالوں کو بھی تراشتے تھے یعنی وہ بال جو کہ مونچھ اور داڑھی کے درمیان ہیں۔٥٨٨٨ : حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ :۵۸۸۸ مکی بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا عَنْ حَنْظَلَةَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ أَصْحَابُنَا انہوں نے حنظلہ سے، حنظلہ نے نافع ہے، (امام عَنِ الْمَكِّيِّ عَنِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ الله بخاری نے کہا: ہمارے ساتھیوں نے مکی (بن عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ابراہیم سے مکی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ) وَسَلَّمَ قَالَ مِنَ الْفِطْرَةِ قَص سے روایت کی انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ نے فرمایا: مونچھوں کا چھوٹا کر نا فطرت الشَّارِبِ۔طرفه : ٥٨٩٠- میں سے ہے۔(هدى السارى مقدمة فتح الباري، الفصل السابع في تبيين الأسماء، كتاب اللباس صفحه ۴۸۶)