صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 300
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۷۔کتاب اللباس حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ زہیر بن معاویہ ) نے ہمیں بتایا کہ ہشام بن عروہ أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمَّ نے ہم سے بیان کیا کہ عروہ نے ان کو بتایا۔سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهَا حضرت زينب بنت ام سلمہ نے اُن کو بتایا۔أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ حضرت اُم سلمہ نے ان کو خبر دی کہ نبی صلی اللہ عِنْدَهَا وَفِي الْبَيْتِ مُخَنَّتْ فَقَالَ عليه وسلم ان کے گھر میں تھے اور گھر میں ایک لِعَبْدِ اللَّهِ أَخِي أَمِّ سَلَمَةَ يَا عَبْدَ اللَّهِ مخنث بھی تھا تو وہ حضرت اُم سلمہ کے بھائی إِنْ فَتَحَ اللهُ لَكُمْ غَدًا الطَّائِفَ فَإِنِّي عبد اللہ سے کہنے لگا: عبد اللہ ! اگر اللہ نے تمہیں أَدُلُّكَ عَلَى بِنْتِ غَيْلَانَ فَإِنَّهَا تُقْبِلُ كل طائف کی فتح دی تو میں تمہیں غیلان کی بیٹی کا بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى پتر دوں گا۔کیونکہ وہ آتی ہے تو اس کے چار بل اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلَنَّ هَؤُلَاءِ نظر آتے ہیں اور جب جاتی ہے تو آٹھ بل نظر آتے ہیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: یہ (لوگ) تمہارے پاس ہر گز نہ آیا کریں۔عَلَيْكُنَّ۔قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ ابو عبد الله (امام بخاری) نے کہا: تُقْبِلُ بِأَرْبَعِ کے يَعْنِي أَرْبَعَ عُكَنِ بَطْنِهَا فَهِيَ تُقْبِلُ یہ معنی ہیں کہ اس کے پیٹ پر چار بل پڑتے ہیں۔بِهِنَّ وَقَوْلُهُ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ يَعْنِي گویا وہ ان کو لے کر آتی ہے اور اس کا یہ کہنا کہ أَطْرَافَ هَذِهِ الْعُكَنِ الْأَرْبَعِ لِأَنَّهَا تُدْبِرُ بِثَمَانِ تو اس کی یہ مراد ہے کہ جب وہ پیٹھ مُحِيطَةٌ بِالْجَنْبَيْنِ حَتَّى لَحِقَتْ وَإِنَّمَا پھیر کر جاتی ہے تو ان چار بلوں پر اور چار بل قَالَ بِثَمَانٍ وَلَمْ يَقُلْ بِثَمَانِيَةٍ وَوَاحِدُ پڑتے ہیں کیونکہ وہ اس کے دونوں پہلوؤں پر الْأَطْرَافِ وَهُوَ ذَكَرٌ لِأَنَّهُ لَمْ يَقُلْ ہوتے ہیں جو ان سے مل جاتے ہیں اور ثَمَانِيَة نہیں کہا تو اس لئے کہ اس سے مراد اطراف کا بِثَمَانِيَةَ أَطْرَافٍ۔أطرافه : ٤٣٢٤، ٥٢٣٥۔مفرد یعنی طرف ہے جو کہ مذکر ہے کیونکہ وہ ثَمَانِيَةَ أَطْرَافِ نہیں کہہ سکتا تھا۔