صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 291 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 291

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۹۱ ۷۷- كتاب اللباس ایک چاندی کی انگوٹھی تیار کروائی جس میں مُحمد رسُولُ اللہ کے الفاظ کندہ کروائے گئے۔اور خدا تعالیٰ کے نام کو مقدم اور بالا رکھنے کے خیال سے آپ نے ان الفاظ کی ترتیب یہ مقرر فرمائی کہ سب سے اوپر اللہ کا لفظ لکھا گیا اور درمیان میں رسول کا لفظ کندہ کیا گیا اور سب سے نیچے کی سطر میں محمد " کا لفظ رکھا گیا نیز چونکہ ان تبلیغی خطوط میں اس انگوٹھی کا نقش لینا مد نظر تھا، اس لئے یہ تدبیر بھی اختیار کی گئی کہ ان الفاظ کو سیدھے رخ پر لکھنے کی بجائے الٹا لکھا گیا تا کہ جب اس کا نقش لیا جائے تو یہ نقش پریس کی چھپائی کی طرح سیدھی صورت میں ظاہر ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ انگوٹھی اس کے بعد ہمیشہ آپ کے ہاتھ میں رہی اور آپ کی وفات کے بعد اسے حضرت ابوبکر خلیفہ اول نے اپنے ہاتھ میں رکھا اور حضرت ابو بکر کے بعد وہ حضرت عمر خلیفہ ثانی کے ہاتھ میں رہی اور ان کے بعد حضرت عثمان خلیفہ ثالث نے اسے پہنا حتی کہ ایک دن وہ ان کے ہاتھ سے ارمیس نامی کنوئیں میں گر کر کھوئی گئی۔حضرت عثمان اور ان کے ساتھیوں نے تین دن تک اس انگوٹھی کی تلاش جاری رکھی اور کنوئیں کا سارا پانی نکال کر چھان مارا مگر وہ نہ ملی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تدبیر سے جو آپ نے صحابہ کے مشورہ سے انگوٹھی تیار کرانے میں اختیار کی اس بات پر اصولی روشنی پڑتی ہے کہ آپ کس طرح تبلیغ کے کام میں ان تمام رستوں کو اختیار فرماتے تھے جو مخاطب کو اپنی طرف مائل کرنے اور اس کے دل پر اچھا اثر پیدا کرنے کے لئے ضروری تھے۔ظاہر ہے کہ جہاں تک خالص تبلیغ کا تعلق ہے کسی مہر کا ہونا یا نہ ہونا ایک بالکل زائد چیز ہے اور کلمہ سحق مہر کے بغیر بھی اتنا ہی وزن رکھتا ہے جتنا کہ مہر کے ساتھ ، لیکن چونکہ آپ کو بتایا گیا تھا کہ اس زمانہ کے بادشاہ مہر کے بغیر کسی خط کی طرف توجہ نہیں دیتے اور آپ کسی ایسے پہلو کو نظر انداز نہیں کرنا چاہتے تھے جس کی وجہ سے مخاطب کے دل میں کسی جہت سے بے تو جہنگی کی صورت پیدا ہو اس لئے آپ نے اس معمولی سی زائد تجویز کو بھی بڑے اہتمام کے ساتھ اختیار (صحیح بخاری، کتاب العلم ، باب مَا يُذْكَرُ فِي المُنَاوَلَةِ)