صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 290
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۹۰ ۷۷- کتاب اللباس بَاب ٥٢ : اتِّخَاذُ الْخَاتَمِ لِيُخْتَمَ بِهِ الشَّيْءُ انگوٹھی بنوانا تا کہ اُس سے کسی چیز پر مہر لگائی جائے أَوْ لِيُكْتَبَ بِهِ إِلَى أَهْلِ الْكِتَابِ یا اُس کے ساتھ اہل کتاب وغیرہ کو خط لکھے جائیں۔ وَغَيْرِهِمْ۔ ٥٨٧٥ : حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ۵۸۷۵: آدم بن ابی ایاس نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے قتادہ سے ، قتادہ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا أَرَادَ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم يَكْتُبَ إِلَى الرُّومِ قِيلَ لَهُ إِنَّهُمْ لَنْ نے جب رومیوں کو خط لکھوانا چاہا تو آپ سے کہا يَقْرَءُوا كِتَابَكَ إِذَا لَمْ يَكُنْ مَخْتُومًا گیا۔ وہ آپ کے خط کو کبھی نہیں پڑھیں گے جب فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ وَنَقْشُهُ تک اس پر مہر نہ لگی ہو۔ اس لئے آپؐ نے ایک مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ فَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى چاندی کی انگوٹھی بنوائی جس پر محمد رسول اللہ کندہ بَيَاضِهِ فِي يَدِهِ۔ کروایا۔ مجھے ایسا یاد ہے کہ اس کی سفیدی کو آپ کے ہاتھ میں دیکھ رہا ہوں۔ أطرافه : ٦٥ ، ۲۹۳۸ ، ۵۸۷۰، ۵۸۷۲، ۵۸۷۴، ٥٨٧٧، ٧١٦٢۔ تشريح : الخَاذُ الْخَاتَمِ لِيُخْتَمَ بِهِ الشَّی : انگوٹی بنوانا اس لئے کہ اس سے کسی چیز پر مہرلگائی جائے۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اسلام کے عالمگیر مشن کے پیش نظر مختلف حکومتوں کے فرمانرواؤں کی طرف تبلیغی خطوط بھیجوانے کی تجویز کی تاکہ ان فرمانرواؤں اور ان کے ذریعہ ان کی رعایا کو اسلام کا پیغام پہنچایا جائے کہ یہی آپ کی بعثت کی اصل غرض وغایت تھی۔ چنانچہ آپ نے حدیبیہ سے واپس آتے ہی اس بارہ میں اپنے صحابہ سے مشورہ کیا اور جب اس مشورہ میں آپ سے یہ عرض کیا گیا کہ دنیوی حکمرانوں کا یہ عام دستور ہے کہ وہ مہر شدہ خط کے بغیر کسی اور خط کی طرف توجہ نہیں دیتے تو آپ نے