صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 5
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۵ کتاب المرضى آپ کو غم نہیں پہنچتا، کیا آپ کو تکلیف نہیں پہنچتی ؟ حضرت ابو بکر نے عرض کیا کیوں نہیں۔فرمایا یہی وہ بدلہ ہے جو تم لوگوں کو ملتا ہے۔(مسند احمد بن حنبل، مسند ابی بکر الصدیق، جزء اول صفحہ ۱۱) بیماریاں بھی انسان کے لیے ابتلاء اور آزمائش کا ذریعہ ہوتی ہیں۔زیر باب روایت نمبر ۵۶۴۳ اور ۵۶۲۴ میں اس فرق کو بیان کیا گیا ہے کہ مومن ایک نرم پودے کی طرح تکلیف میں خدا کے حضور جھکتا ہے جس سے وہ بیماری اور تکلیف اس کے گناہوں کا کفارہ بن کر اس کے لیے رحمت بن جاتی ہے جبکہ غیر مومن صنوبر کے درخت کی طرح اپنی اکٹر اور تکبر میں کھڑا رہتا ہے نتیجہ بیماری اس کے لیے اس دنیا میں بھی تباہی اور بربادی کا ذریعہ بنتی ہے اور آخرت میں بھی وہ اس تکبر کی سزا پاتا ہے۔اس مثال میں ایک مومن کی انفرادی اور اجتماعی ترقی کا بھی بیان ہے کہ ابتلاؤں میں مومن کی کشتی نشیب و فراز سے گزرتی بالآخر فتح و ظفر کے کنارے جا لگتی ہے۔پس مومن پر بیماریاں، تکالیف، مصائب اور غم و اندوہ اس لیے آتے ہیں کہ وہ تکالیف اس کے گناہوں کا کفارہ بن جائیں اور اُسے آخرت کے عذاب سے بچایا جائے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”مومن کو اس دنیا میں جو تکلیفیں پہنچتی ہیں وہ درحقیقت اگلے جہان کی دوزخ کا ایک حصہ ہوتی ہیں۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: الحمى حظ الْمُؤْمِنِ من النار۔بخار دوزخ میں سے مومن کا حصہ ہے یعنی مومن اگلے جہان کی دوزخ میں تو نہیں ڈالا جاتا لیکن جب یہاں اسے بخار چڑھ جاتا ہے یا اور بیماریاں آ جاتی ہیں تو اسے بھی اس آگ سے ایک حصہ مل جاتا ہے۔گویا کافر اگلے جہاں میں مرنے کے بعد آگ کے عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور مومن اسی دنیا میں مختلف تکالیف سے حصہ لے کر جو در حقیقت دوزخ کا ہی ایک حصہ ہیں اگلے جہان میں جنت میں چلا جائے گا۔“ ( تفسير كبير ، سورۃ مریم زیر آیت وَإِن مِنكُمْ الأَوَارِدُهَا۔جلد ۵ صفحه ۳۳۸،۳۳۷) مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُصِبْ مِنْهُ : ان الفاظ کا ترجمہ یہ ہے، اللہ جس کی بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو مصیبت میں مبتلا کرتا ہے۔مصائب، تکالیف، بیماریاں ایک مومن پر اس لیے بھی آتی ہیں کہ صبر ورضا، استقامت اور تعلق باللہ کا نمونہ دکھایا جائے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: یہ مصائب گناہ کا کفارہ ہوتے ہیں۔کرب اور گھبراہٹ کی کوئی بات نہیں۔خدا داری چہ غم داری۔خدا تعالیٰ پر پورا ایمان اور بھروسہ ہو تو پھر انسان کو تنور میں ڈال دیا جاوے اُسے کوئی غم نہیں ہو تا۔تکالیف کا بھی ایک وقت ہوتا ہے۔اس کے بعد