صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 4 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 4

صحیح البخاری جلد ۱۴ سلام ۷۵ کتاب المرضى وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْخَامَةِ مِنَ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے الزَّرْعِ مِنْ حَيْثُ أَتَتْهَا الرِّيحُ كَفَأَتْهَا فرمایا: مؤمن کی مثال اس ہرے بھرے نرم فَإِذَا اعْتَدَلَتْ تَكَفَّأُ بِالْبَلَاءِ وَالْفَاجِرُ پودے کی سی ہے کہ جسے جس طرف سے بھی ہوا كَالْأَرْزَةِ صَمَّاءَ مُعْتَدِلَةٌ حَتَّى يَقْصِمَهَا آئے اس کو جھکا دے اور پھر ویسے کا ویسا سیدھا ہو جاتا ہے۔ایسے ہی وہ ابتلا میں جھک جاتا ہے اور اللَّهُ إِذَا شَاءَ فاجر اس شمشاد کی طرح ہے جو سخت سیدھا کھڑا طرفه : ٧٤٦٦- ہے یہاں تک کہ اللہ جب چاہتا ہے اسے توڑ ڈالتا ہے۔٥٦٤٥ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ :۵۶۴۵ عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ کہ مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے محمد بن عبد اللہ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ أَنَّهُ بن عبد الرحمن بن ابی صعصعہ سے روایت کی۔محمد قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ يَسَارٍ أَبَا الْحُبَابِ نے کہا میں نے سعید بن یسار ابو الحباب سے سنا، وہ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ کہتے تھے میں نے حضرت ابو ہریرہ سے سنا وہ کہتے رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُصِبْ مِنْهُ۔جس کی بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو مصیبت میں مبتلا کرتا ہے۔تشریح : مَا جَاءَ فِي كَفَّارَةِ الْمَرَضِ: جو (احادیث) بیماری کے کفارہ کے متعلق آئی ہیں۔امام بخاری عنوانِ باب میں آیت مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ وَلَا يَجِدُ لَهُ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلِيًّا وَ لَا نَصِيرًا (النساء : ۱۲۴) جو شخص کوئی بدی کرے گا اسے اس کے مطابق بدلہ دیا جائے گا اور وہ اللہ کے سوانہ کسی کو اپنا دوست پائے گا اور نہ مددگار۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کو بیان فرمایا ہے کہ ہر کام کا نتیجہ ضرور نکلتا ہے چاہے وہ اس دنیا میں ہو یا آخرت میں۔حدیث میں آتا ہے جب یہ آیت نازل ہوئی۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس آیت کے حوالے سے عرض کیا: یارسول اللہ ! ہر برائمل جو ہم سے ہوا اس کی ہمیں سزا ملے گی تو نجات کیسے ہو گی ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو بکر اللہ آپ کو معاف فرمائے کیا آپ بیمار نہیں ہوتے ، کیا آپ کو تھکان نہیں ہوتی، کیا