صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 283
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۸۳ ۷۷- کتاب اللباس حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ ابو اسامہ نے ہم سے بیان کیا کہ عبید اللہ (عمری ) عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا نے ہم سے بیان کیا۔ عبید اللہ نے نافع سے ، نافع أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی یا (کہا) وَجَعَلَ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي كَفَّهُ وَنَقَشَ فِيهِ چاندی کی انگوٹھی بنوائی اور اس کا نگینہ اس طرف مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ فَاتَّخَذَ النَّاسُ مِثْلَهُ رکھا جو آپ کی ہتھیلی کے قریب تھا اور اس میں یہ فَلَمَّا رَآهُمْ قَدِ اتَّخَذُوهَا رَمَى بِهِ کندہ کرایا: محمد رسول اللہ ۔ تو لوگوں نے بھی ایسی وَقَالَ لَا أَلْبَسُهُ أَبَدًا ثُمَّ اتَّخَذَ خَاتَمًا ہی انگوٹھیاں بنوائیں۔ جب آپ نے دیکھا کہ وہ مِنْ فِضَّةٍ فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ بھی انگوٹھیاں پہننے لگے ہیں تو آپؐ نے اس کو الْفِضَّةِ قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَلَبِسَ الْخَاتَمَ پھینک دیا اور فرمایا: میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا۔ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبو پھر آپ نے چاندی کی انگوٹی بنوائی اور لوگوں نے بھی چاندی کی انگوٹھیاں بنوائیں۔ حضرت ابن عمر بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ ثُمَّ عُثْمَانُ حَتَّى وَقَعَ مِنْ عُثْمَانَ فِي بِئْرِ أَرِيسَ۔ کہتے تھے : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وہ انگوٹھی حضرت ابو بکر نے پہنی پھر حضرت عمرؓ نے پھر حضرت عثمان نے اور آخر وہ انگوٹھی حضرت عثمان سے اریس کے کنوئیں میں گر گئی۔ أطرافه : ٥٨٦٥ ٥٨٦٧، ٥٨٧٣، ٥٨٧٦، ٦٦٥١، ٧٢٩٨- خَاتَمُ الْفِضَّةِ: چاندی کی انگو : چاندی کی انگوٹھی۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: شرت: "بادشاہوں کو خط لکھنے کے وقت آپ نے ایک مہر والی انگوٹھی اپنے لئے بنوائی تھی مگر آپ نے ارشاد فرمایا تھا کہ سونے کی انگوٹھی نہ ہو بلکہ چاندی کی ہو کیونکہ سونا خدا تعالیٰ نے میری اُمت کے مردوں کے لئے پہننا منع فرمایا ہے۔ عورتوں کو بیٹک ریشمی کپڑے اور زیور پہننے کی اجازت تھی اس بارہ میں آپ نصیحت کرتے رہتے تھے کہ غلو نہ کیا جائے۔“ (دیباچہ تفسیر القرآن، انوار العلوم جلد ۲۰ صفحه ۳۸۰، ۳۸۱)