صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 282 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 282

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۷۔کتاب اللباس حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا مردوں کے لئے سونے کی انگوٹھی جائز نہیں ؟ حضور نے فرمایا: ”ہاں، مردوں کے لئے سونے کی انگوٹھی جائز نہیں۔درحقیقت اسلام کا منشاء یہ ہے کہ وہ چیزیں جو کہ قیمت کے طور پر کام آتی ہیں ان کو روک کر اپنے پاس نہ رکھا جائے۔اگر لوگ سونے چاندی کو بند کر کے رکھ دیں تو تجارت پر بہت برا اثر پڑتا ہے اور خزانوں میں سکتے کی کمی پیدا ہو جاتی ہے۔اسی لئے اسلام نے سونے چاندی کے برتنوں سے منع کیا ہے۔اگر سونے چاندی کے برتن بنائے جائیں گے تو وہ گھر میں بند ہو جائیں گے اور اس کا سکوں پر برا اثر پڑے گا۔اگر سونے چاندی کو لوگ گھروں میں بند کر دیں گے تو پھر صرف نوٹ ہی نوٹ سکہ کے طور پر رہ جائیں گے۔اس لئے اسلام نے مردوں کو تو بالکل منع فرمایا کہ وہ سونا نہ پہنیں اور عورتوں کے ان زیورات پر جو وہ نہیں پہنتیں چالیسواں حصہ زکوۃ لگا دی۔اس طرح چالیس و پچاس سال میں آہستہ آہستہ وہ سارا سونا خود بخود نکل آئے گا۔اور اگر زکوۃ ادا نہیں کریں گی تو بے دین بنیں گی۔جو لوگ زکوۃ دیتے ہیں وہ خود محسوس کر لیتے ہیں کہ زکوۃ ہی ہمارا سارا سونا ختم کر دے گی۔میں نے اپنے گھروں میں بھی دیکھا ہے کہ جب چند سال زکوۃ ادا کرتے ہیں تو آخر کہہ دیتے ہیں کہ اس زیور کو فلاں جگہ پر لگا دیجئے۔پس ہماری شریعت کا منشاء یہ ہے کہ روپیہ چکر کھاتا رہے۔اس کے لیے پہلا قدم تو یہ اٹھایا کہ مردسونانہ پہنیں۔پھر عورتوں سے کہا کہ اگر زیور بنوا کر رکھو گی تو اس پر زکوۃ ادا کرنی ہو گی اور اس طرح اسلام نے غریبوں کے لیے امیروں پر زکوۃ فرض کر دی تا کہ امراء کے پاس سے روپیہ نکل کر غریبوں کے پاس جاتا ر ہے۔“ (ملفوظات حضرت خلیفہ المسیح الثانی، فرموده ۲۶ ستمبر ۱۹۴۶، الفضل ۵ نومبر ۱۹۶۰ صفحه ۴) بَاب ٤٦ : خَاتَمُ الْفِضَّةِ چاندی کی انگو ٹھی ٥٨٦٦ : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ۵۸۲۶: یوسف بن موسیٰ نے ہمیں بتایا کہ