صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 281 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 281

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۸۱ ۷۷- كتاب اللباس عَبْدِ الله عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنْ سعید قطان نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبید اللہ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ (عمری) سے، عبید اللہ نے کہا کہ مجھے نافع نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَالَمًا بتایا۔نافع نے حضرت عبد اللہ بن عمر) رضی اللہ مِنْ ذَهَبٍ وَجَعَلَ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي كَفَّهُ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ لی ایم نے سونے فَاتَّخَذَهُ النَّاسُ فَرَمَى بِهِ وَاتَّخَذَ کی ایک انگوٹھی بنوائی اور آپ نے اس کا نگینہ اس طرف رکھا جو ہتھیلی کے قریب تھا۔پھر لوگوں خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ أَوْ فِضَّةٍ۔نے بھی انگوٹھیاں بنوائیں۔یہ دیکھ کر آپ نے اس کو پھینک دیا اور آپ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی۔راوی نے ورق کا لفظ بیان کیا یا فضّہ کا۔أطرافه ٥٨٦٦، ٥٨٦ ٥٨٧٣، ٥٨٧٦، ٦٦٥، ٧٢٩٨- یح: خَوَاتِيمُ الذَّهَبِ: سونے کی انگوٹھیاں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور نجاشی کے مابین تحائف کا سلسلہ بھی قائم تھا چنانچہ نجاشی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک دفعہ سیاہ رنگ کے موزوں کا جوڑا بھیجا جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے استعمال فرمایا اور وضو کرتے ہوئے اس پر مسح کیا۔نجاشی نے ایک دفعہ سونے کی انگوٹھی بھیجی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ انگوٹھی اپنی نواسی امامہ کو جو حضرت زینب کی بیٹی تھیں، پہنے کے لئے دی۔ایک شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بذریعہ تحریر عرض کی کہ ہمارے ہاں رسم ہے کہ جب بچے کو بسم اللہ کرائی جاوے تو بچے کو تعلیم دینے والے مولوی کو ایک عددختی چاندی یا سونے کی اور قلم و دوات چاندی یا سونے کی دی جاتی ہے۔اگر چہ میں ایک غریب آدمی ہوں مگر چاہتا ہوں کہ یہ اشیاء اپنے بچے کی بسم اللہ پر آپ کی خدمت میں ارسال کروں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے جواب میں تحریر فرمایا:۔سختی اور قلم و دوات سونے یا چاندی کی دینا یہ سب بدعتیں ہیں ان سے پر ہیز کرنا چاہیئے اور باوجود غربت کے اور کم جائیداد ہونے کے اس قدر اسراف اختیار کرنا سخت گناہ ہے۔“ ( ملفوظات جلد ۵ صفحہ ۲۶۵) (سنن أبي داود، كتاب الطَّهَارَةِ، بَابُ الْمَسْحَ عَلَى الْخَفَيْنِ) (سنن أبی داود، كتاب الخاتمِ ، مَا جَاءَ فِي الذَّهَبِ لِلنِّسَاءِ )