صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 279
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۷۹ ۷۷ - كتاب اللباس فَوَجَدْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اپنے گھر میں پایا تو مخرمہ نے مجھ سے کہا: اے فِي مَنْزِلِهِ فَقَالَ لِي يَا بُنَيَّ ادْعُ لِي میرے بیٹے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے پاس النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بلاؤ۔میں نے اس کو بہت ہی برا سمجھا۔میں نے فَأَعْظَمْتُ ذَلِكَ فَقُلْتُ أَدْعُو لَكَ کہا : کیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے رَسُولَ اللهِ فَقَالَ يَا بُنَيَّ إِنَّهُ لَيْسَ پاس بلاؤں؟ انہوں نے کہا: بیٹا ! وہ مغرور نہیں بِجَبَّارٍ فَدَعَوْتُهُ فَخَرَجَ وَعَلَيْهِ قَبَاءٌ ہیں۔تب میں نے آپ کو بلایا، آپ باہر آئے اور مِنْ دِينَاجٍ مُزَرِّرٌ بِالذَّهَبِ فَقَالَ يَا آپ پر ایک ریشمی قبائتھی جسے سونے کے بٹن لگے ہوئے تھے۔آپ نے فرمایا: مخرمہ یہ ہم نے تمہارے لئے چھپارکھی ہے اور آپ نے وہ ان کو مَحْرَمَةُ هَذَا خَبَأْنَاهُ لَكَ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ۔أطرافه ،٢٥٩٩، ۲٦٥٧ ۳۱۲۷، ۵۸۰۰، ۶۱۳۲۔دے دی۔ح۔الْمُؤَثِّرُ بِالذَّهَبِ : جس کپڑے کو سونے کے بٹن لگے ہوں۔عرض کی گئی کہ چاندی وغیرہ کے بٹن استعمال کئے جاویں ؟ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ: ۴-۳ ماشہ تک کوئی حرج نہیں، لیکن زیادہ کا استعمال منع ہے۔اصل میں سونا چاندی عورتوں کی زینت کے لیے جائز رکھا ہے۔ہاں علاج کے طور پر ان کا استعمال منع نہیں۔جیسے کسی شخص کو کوئی عارضہ ہو اور چاندی سونے کے برتن میں کھانا طبیب بتلاوے تو بطور علاج کے صحت تک وہ استعمال کر سکتا ہے۔“ بَاب ٤٥ : خَوَاتِيمُ الذَّهَبِ سونے کی انگوٹھیاں (ملفوظات جلد ۴ صفحه ۹۴) ٥٨٦٣ : حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ۵۸۶۳: آدم بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ قَالَ سَمِعْتُ کہ شعبہ نے ہمیں بتایا کہ اشعث بن سلیم نے ہم مُعَاوِيَةَ بْنَ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِنِ قَالَ سَمِعْتُ سے بیان کیا ، اشعث نے کہا: میں نے معاویہ بن