صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 274 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 274

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۷۔کتاب اللباس علیہ وسلم نے فرمایا: یہود کی مخالفت کرو۔وہ موزے اور جوتے پہن کر نماز نہیں پڑھتے۔ابو داود کی ہی ایک اور روایت میں ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جوتوں کے ساتھ نماز پڑھا رہے تھے۔دوران نماز آپ نے جوتے اتار دیئے۔آپ کو دیکھ کر صحابہ نے بھی جوتے اتار دیئے۔نماز کے بعد صحابہ کے پوچھنے پر آپ نے فرمایا کہ جبرئیل نے مجھے بتایا کہ آپ کے جوتوں کو کوئی الائش لگی ہے تو میں نے جوتے اتار دیئے۔کے ابو داود کی ہی ایک روایت میں یہ ذکر ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جوتے پہن کر اور جوتے اتار کر دونوں طرح نماز پڑھتے دیکھا ہے۔سے حضرت انس کی زیر باب روایت سے جوتوں سمیت نماز پڑھنے کا جواز بیان کیا ہے۔دونوں باتیں موقع ، جگہ اور صورت حال کے مطابق ہیں۔عام دستور آپ کا جوتے اتار کر نماز پڑھنے کا ہی تھا۔تاہم مسجد کے علاوہ ایسی جگہ جہاں جوتے اتار نا تکلیف کا باعث ہو جوتوں سمیت نماز پڑھنے کا جواز ہے۔مثلاً دوران سفر سواری پر نماز پڑھنا، تا ہم صفائی اور نظافت جو شرائط نماز میں سے ضروری ہے اس کا اطلاق جوتوں اور بدن سب کیلئے یکساں ہے۔بَابِ ۳۸: يَبْدَأُ بِالنَّعْلِ الْيُمْنَى دائیں جوتے کو پہلے پہنے ٥٨٥٤ : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَال :۵۸۵۴ حجاج بن منہال نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي أَشْعَثُ بْنُ شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: مجھے اشعث سُلَيْمٍ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ بن سلیم نے بتایا کہ میں نے اپنے باپ سے سنا کہ وہ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مسروق سے، مسروق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے روایت کرتے ہوئے بتاتے تھے کہ آپ وَسَلَّمَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ فِي ظُهُورِهِ فرماتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وضو غسل وَتَرَجُلِهِ وَتَنَعْلِهِ۔وغیرہ کرنے میں اور اپنی کنگھی کرنے میں اور اپنے جوتے پہننے میں داہنی طرف سے شروع کرنا پسند کرتے تھے۔أطرافه ١٦٨ ٤٢٦، ٥٣٨٠، ٥٩٢٦۔(سنن ابو داود، كتاب الصَّلَاةِ، باب الصَّلَاةِ فِي التَّعْلِ) (سنن ابوداود، کتاب الصَّلاة، باب الصَّلَاةِ فِي التَّعْلِ) (سنن ابوداود، کتاب الصَّلاةِ، باب الصَّلاةِ فِي التَّعْلِ)