صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 273
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۷۳ ۷۷۔کتاب اللباس عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ الله سے عبد اللہ نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّی سے روایت کی۔انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْبَسَ الْمُحْرِمُ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ محرم ایسا کپڑا پہنے جو تَوْبًا مَصْبُوعًا بِزَعْفَرَانٍ أَوْ وَرْسٍ وَقَالَ زعفران یا ورس سے رنگا ہوا ہو اور آپ نے فرمایا: ا مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْن جس کو جوتیاں میسر نہ ہوں وہ موزے ہی پہن لے اور وہ انہیں ٹخنوں کے نیچے تک کاٹ لے۔وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ۔أطرافه: ١٣٤، ٣٦٦ ١٥٤٢ ، ،۱۸۳۸، ١٨٤۲، ۱۷۹٤، ٥۸۰۳، ٥٨٥، ٥٨٠٦ ٥٨٤٧۔٥٨٥٣ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ :۵۸۵۳ : محمد بن یوسف (فریابی) نے ہم سے حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔انہوں عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ نے عمرو بن دینار سے، عمرو نے جابر بن زید سے، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ النَّبِيُّ جابر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم إِزَارٌ فَلْيَلْبَسِ السَّرَاوِيلَ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ نے فرمایا: جس کے پاس تہ بند نہ ہو وہ پاجامہ ہی پہن لے اور جس کے پاس جو تیاں نہ ہوں تو وہ لَهُ نَعْلَانِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ۔أطرافه: ١٧٤٠ ، ١٨٤١، ١٨٤٣، ٥٨٠٤ موزے ہی بہن لے۔تشريح: التعَالُ اليَبْنِيَّةِ وَغَيْرِهَا: صاف چمڑے وغیرہ کے جوتے۔نعال فعل کی جمع ہے اس سے مراد جوتا ہے۔النعل والنعلة: وہ چیز جس سے پاؤں کی حفاظت کی جائے۔(عمدۃ القاری، جزء ۲۲ صفحه ۲۴) السبتية : اس جوتے کو کہتے ہیں جس کا چھڑا بال اتار کر صاف کیا گیا ہو۔یا اس چڑے کو کہتے ہیں جس کو کیکر کے پتوں سے رنگا جائے۔عرب عام طور پر بالوں سمیت چھڑے کے جوتے پہنتے تھے۔چڑے کو رنگتے نہیں تھے۔علامہ ابو عبید کہتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں صرف صاحب حیثیت مالدار لوگ رنگے چمڑے کی جوتے پہنتے تھے۔ابو عمر و شیبانی کہتے ہیں جس کو کیکر کے پتوں سے رنگا جائے اسے سبتية کہتے ہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۲۲ صفحہ ۲۴) زیر باب روایت نمبر ۵۸۵۰ میں یہ ذکر ہے کہ حضرت انس سے پوچھا گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم جوتوں سمیت نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔انہوں نے کہا: ہاں۔سنن ابی داود وغیرہ میں بعض روایات میں یہ ذکر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ