صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 267
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۶۷ ۷۷ - كتاب اللباس قَالَ الزُّهْرِيُّ وَكَانَتْ هِنْدَ لَهَا أَزْرَارٌ زہری نے کہا اور ہند کی آستینوں میں اس کی فِي كُمَّيْهَا بَيْنَ أَصَابِعِهَا۔أطرافه ١١٥ ١١٢٦، ۳۵۹۹، ۶۲۱۸، ۷۰۶۹- انگلیوں کے درمیان بٹن ہوا کرتے تھے۔بَاب :۳۲: مَا يُدْعَى لِمَنْ لَبِسَ ثَوْبًا جَدِيدًا جو شخص نیا کپڑا پہنے اس کے لئے کیا دعا کی جائے ٥٨٤٥ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا :۵۸۴۵ ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ اسحاق إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بنِ بن سعيد بن عمرو بن سعید بن العاص نے ہمیں سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي بتایا۔انہوں نے کہا: میرے باپ نے مجھے بتایا۔قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ خَالِدٍ بِنْتُ خَالِدٍ ان کے باپ نے کہا: حضرت ام خالد بنت خالد قَالَتْ أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ) بن سعيد بن عاص) نے مجھ سے بیان کیا۔انہوں وَسَلَّمَ بِثِيَابٍ فِيهَا خَمِيصَةٌ سَوْدَاءُ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قَالَ مَنْ تَرَوْنَ نَكْسُوهَا هَذِهِ کپڑے لائے گئے جن میں ایک سیاہ اُونی دھاری الْحَمِيصَةَ فَأَسْكِتَ الْقَوْمُ قَالَ دار چادر بھی تھی۔آپ نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ائْتُونِي بِأَم خَالِدٍ فَأْتِيَ بِي النَّبِيُّ ہے کہ ہم یہ چادر کس کو پہنائیں؟ لوگ خاموش ہو صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَلْبَسَنِيهَا بِيَدِهِ ہے۔آپ نے فرمایا: ام خالد کو میرے پاس لے وَقَالَ أَبْلِي وَأَخْلِقِي مَرَّتَيْنِ فَجَعَلَ آؤ۔(حضرت ام خالدہ کہتی ہیں: ) مجھے نبی صلی اللہ يَنْظُرُ إِلَى عَلَمِ الْخَمِيصَةِ وَيُشِيرُ علیہ وسلم کے پاس لے گئے تو آپ نے اپنے ہاتھ بِيَدِهِ إِلَيَّ وَيَقُولُ يَا أُمَّ خَالِدٍ هَذَا سَنَا سے مجھے یہ (چادر) پہنائی اور دوبار فرمایا: ہمیشہ ہی وَالسَّنَا بِلِسَانِ الْحَبَشَةِ الْحَسَنُ قَالَ پہنتی رہو۔آپ اس چادر کے بیل بوٹوں کو دیکھنے إِسْحَاقُ حَدَّثَتْنِي امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِي لگے اور اپنے ہاتھ سے میری طرف اشارہ کرتے