صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 268 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 268

صحیح البخاری جلد ۱۴ أَنَّهَا رَأَتْهُ عَلَى أُمّ خَالِدٍ۔أطرافه: ۳۰۷۱، ٣٨٧٤، ٥٨٢٣، ٥٩٩٣۔۲۶۸ ۷۷ - كتاب اللباس اور فرماتے: ام خالد! هَذَا سَنَا اور سَنَا حبشی زبان میں اچھے کو کہتے ہیں۔اسحاق (بن سعید) نے کہا کہ میرے رشتہ داروں میں سے ایک عورت نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے اس چادر کو حضرت ام خالد کو پہنے ہوئے دیکھا۔تشريح۔مَايُدعَى لِمَنْ لَبِسَ ثَوْبَا جَدِيدًا : جو شخص نیا کپڑا پہنے اس کے لئے کیا دعا کی جائے۔حضرت ابوسعید الخدری فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب نیا کپڑا پہنتے تو اس کا نام لیتے، عمامہ یا قمیص یا چادر ، پھر یہ دعا کرتے: اللهم لك الحمد انتَ كَسَوْتَنِيْهِ أَسْتَلْكَ خَيْرَهُ وَخَيْرَ مَا صُنِعَ لَهُ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِهِ وَشَرَّ مَا صُبَحَ لَهُ اے میرے اللہ ! تیرا شکر ہے کہ تُونے مجھے یہ پہنایا، میں اس کپڑے کی خیر اور جس کے لئے یہ بنایا گیا ہے اس کی خیر مانگتا ہوں اور اسکی اور جس کے لئے یہ بنایا گیا ہے اس کے شر سے پناہ مانگتا ہوں۔باب ۳۳ : النَّهْيُ عَنِ التَزَعْفُرِ لِلرِّجَالِ مردوں کے لئے زعفران استعمال کرنا ٥٨٤٦: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ :۵۸۴۶ : مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ عبد الوارث الْوَارِثِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ (بن سعید) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبد العزیز قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے، عبد العزیز نے حضرت انس سے روایت وَسَلَّمَ أَنْ يَتَزَعْفَرَ الرَّجُلُ۔کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ مردز عفرانی رنگ استعمال کرے۔تشريح : النَّهرُ عَنِ التَّزَعُفُرِ لِلرِّجَالِ: مردوں کے لئے زعفران استعمال کرتا۔باب نمبر ۳۳ سے ۳۶ تک مختلف رنگ کے کپڑے پہنے کا ذکر ہے۔ہر معاشرے میں بالعموم مردوں اور عورتوں کے کپڑوں کے الگ الگ رنگ اور ڈیزائن ہوتے ہیں۔بعض رنگ اور ڈیزائن مردوں کے لیے مخصوص ہو جاتے ہیں اور بعض عورتوں کے لئے۔مردوں کے لئے رنگ دار یا شوخ اور بھڑکیلے رنگ عام طور پر پسند نہیں کیے جاتے جیسا کہ زیر باب حدیث میں بھی زعفران کے رنگ والے کپڑوں کی مردوں کے لیے مناہی کا ذکر ہے۔تاہم خواتین شوخ (ترمذی، ابواب اللباس، باب ما يقول اذا لبس ثوبا جديدا)