صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 265 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 265

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۶۵ ۷۷- كتاب اللباس الله أَتَانِي بِمَا يَكُونُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اب یہی باقی رہ گیا تھا کہ تم رسول اللہ الا الی یوم اللہ صلی علیوم اور ان اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ مَنْ حَوْلَ کی ازواج کے درمیان بھی مداخلت کرو۔ انہوں رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِ نے بار بار یہی فقرہ دہرایا اور انصار میں سے ایک اسْتَقَامَ لَهُ فَلَمْ يَبْقَ إِلَّا مَلِكُ غَسَّانَ شخص تھا کہ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بِالشَّامِ كُنَّا نَخَافُ أَنْ يَأْتِيَنَا فَمَا غیر حاضر ہوتا اور میں آپ کے پاس موجود ہوتا تو شَعَرْتُ إِلَّا بِالْأَنْصَارِيِّ وَهُوَ يَقُولُ میں اس کے پاس وہ خبریں لاتا جو ہو تیں اور جب إِنَّهُ قَدْ حَدَثَ أَمْرٌ قُلْتُ لَهُ وَمَا هُوَ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غیر حاضر ہوتا أَجَاءَ الْغَسَّانِيُّ قَالَ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ اور وہ موجود ہوتا تو میرے پاس وہ خبریں لاتا جو طَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ رَسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہو تیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ارد گر د جتنے ر وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ فَجِئْتُ فَإِذَا الْبُكَاءُ فِي حُجَرِهِنَّ كُلِّهِنَّ وَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ قبائل تھے۔ وہ سب سب آپ کے لئے سیدھے ہو۔ ے ہو گئے اور کوئی باقی نہ رہا مگر عنسان کا بادشاہ جو شام میں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَعِدَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ تھا۔ ہم ڈرتے تھے کہیں وہ ہم پر حملہ نہ کر دے۔ وَعَلَى بَابِ الْمَشْرُبَةِ وَصِيفٌ فَأَتَيْتُهُ یکا یک مجھے معلوم ہوا کہ وہ انصاری ہے اور وہ کہہ فَقُلْتُ اسْتَأْذِنْ لِي فَأَذِنَ لِي رہا ہے کہ ایک بہت بڑا واقعہ ہوا ہے ۔ میں نے فَدَخَلْتُ فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ اس سے پوچھا: وہ کیا ہے عسانی آن پہنچے ؟ کہنے لگا: وَسَلَّمَ عَلَى حَصِيرٍ قَدْ أَثَرَ فِي جَنْبِهِ اس سے بھی بڑھ کر۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وَتَحْتَ رَأْسِهِ مِرْفَقَةٌ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی۔ میں آیا تو کیا ليفٌ وَإِذَا أُهُبْ مُعَلَّقَةٌ وَقَرَظٌ ہے کہ ان کے حجروں سے رونے کی آواز آرہی فَذَكَرْتُ الَّذِي قُلْتُ لِحَفْصَةَ وَأُمِّ ہے اور کیا دیکھتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سَلَمَةَ وَالَّذِي رَدَّتْ عَلَيَّ أُمُّ سَلَمَةَ ایک بالا خانے میں اوپر تشریف لے گئے ہیں اور فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اس بالا خانے کے دروازے پر ایک غلام ہے ۔ وَسَلَّمَ فَلَبِثَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ میں اس کے پاس آیا۔ میں نے کہا: میرے لئے