صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 264
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۶۴ ۷۷ - كتاب اللباس صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلْتُ أَهَابُهُ کے متعلق پوچھوں، جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فَنَزَلَ يَوْمًا مَنْزِلًا فَدَخَلَ الْأَرَاكَ فَلَمَّا کے برخلاف آپس میں اریکا کیا تھا مگر میں اُن سے خَرَجَ سَأَلْتُهُ فَقَالَ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ ڈرتا رہا۔ایک دن وہ ایک پڑاؤ میں اترے اور پیلو ثُمَّ قَالَ كُنَّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَا نَعُدُّ کے جھنڈ میں گئے۔جب وہاں سے باہر آئے تو النِّسَاءَ شَيْئًا فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ میں نے ان سے پوچھا۔انہوں نے کہا: عائشہ اور وَذَكَرَهُنَّ اللَّهُ رَأَيْنَا لَهُنَّ بِذَلِكَ عَلَيْنَا حفصہ تھیں۔پھر کہنے لگے : ہم زمانہ جاہلیت میں حَقًّا مِنْ غَيْرِ أَنْ نُدْخِلَهُنَّ فِي شَيْءٍ عورتوں کو کسی شمار میں بھی نہ سمجھتے تھے۔جب مِنْ أُمُورِنَا وَكَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ امْرَأَتِي اسلام آیا اور اللہ نے ان کا ذکر کیا، تو ہم اس وجہ كَلَامٌ فَأَغْلَظَتْ لِي فَقُلْتُ لَهَا وَإِنَّكِ سے ان کا اپنے ذمے حق سمجھنے لگے بغیر اس کے لَهُنَاكِ قَالَتْ تَقُولُ هَذَا لِي وَابْتَتُكَ کہ انہیں اپنے معاملات میں سے کسی میں دخل تُؤْذِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دینے دیں اور میرے اور میری بیوی کے درمیان فَأَتَيْتُ حَفْصَةَ فَقُلْتُ لَهَا إِنِّي جو گفتگو ہوئی تو اس نے مجھ سے سخت کلامی کی۔أُحَدِّرُكِ أَنْ تَعْصِي اللَّهَ وَرَسُولَهُ میں نے اس سے کہا: اچھا تم اس حد تک پہنچ گئی ہو۔وَتَقَدَّمْتُ إِلَيْهَا فِي أَذَاهُ فَأَتَيْتُ أُمَّ وہ کہنے لگی: تم مجھے یہ کہتے ہو اور تمہاری بیٹی تو نبی سَلَمَةَ فَقُلْتُ لَهَا فَقَالَتْ أَعْجَبُ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنگ کرتی رہتی ہے۔یہ سن کر مِنْكَ يَا عُمَرُ قَدْ دَخَلْتَ فِي أُمُورِنَا میں حفصہ کے پاس آیا اور میں نے اس سے کہا: فَلَمْ يَبْقَ إِلَّا أَنْ تَدْخُلَ بَيْنَ رَسُولِ میں تمہیں تنبیہ کرتا ہوں کہ اللہ اور اس کے رسول اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَزْوَاجِهِ کی نافرمانی نہ کرنا پھر آپ کی تکلیف کے متعلق سن فَرَدَّدَتْ وَكَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِذَا کر میں نے پہلے اس (حفصہ) کے پاس جا کر کہا۔غَابَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ پھر میں اُم سلمہ کے پاس آیا اور ان سے کہا۔وہ وَسَلَّمَ وَشَهِدْتُهُ أَتَيْتُهُ بِمَا يَكُونُ وَإِذَا کہنے لگیں: عمر! میں تم پر حیران ہوں کہ تم اب غِبْتُ عَنْ رَسُولِ اللهِ لا وَشَهِدَ ہمارے معاملات میں بھی دخل دینے لگ گئے ہو۔