صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 263 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 263

۲۶۳ ۷۷۔کتاب اللباس صحیح البخاری جلد ۱۴ ہے الفواطم حضرت فاطمہ بنت النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت فاطمہ بنت اسد بن ہاشم جو کہ حضرت علی کی والدہ ہیں، مراد ہیں۔امام طحاوی کی روایت میں ذکر ہے کہ آذر بائیجان کے امیر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی جوڑے کا ہدیہ بھیجا۔آپ نے حضرت علی کو دیا اور فرمایا تم الفواطم میں تقسیم کر دو۔میں نے وہ چار حصوں میں تقسیم کیا، فاطمہ بنت اسد بن ہاشم جو حضرت علی کی والدہ تھیں اور فاطمہ بنت النبی اور فاطمہ بنت حمزہ بن عبد المطلب اور چوتھی کا ذکر امام طحاوی کی روایت میں نہیں ہے بلکہ قاضی عیاض نے کہا ہے غالباً چوتھی فاطمہ عقیل بن ابی طالب کی زوجہ تھیں اور وہ شیبہ بن ربیعہ یا ایک روایت کے مطابق عتبہ بن ربیعہ کی بیٹی تھیں۔(عمدۃ القاری جزء ۲۲ صفحہ ۱۸،۱۷) حلة سيراء: زير باب روایت نمبر ۵۸۴۰ میں اس ریشمی جوڑے کے لیے ”محلة سيراء“ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔اس سے کیا مراد ہے ؟ تہبند اور چادر کو محلے کہتے ہیں۔ابن اثیر کہتے ہیں محلے اسے اس صورت میں کہیں گے جب دونوں کپڑے ( تہبند اور چادر) ایک ہی کپڑے کی قسم کے ہوں۔امام مالک نے کہا: بیستراء اس کپڑے کو کہتے ہیں جس کے کنارے ریشم کے ہوں۔اصمعی نے کہا کہ وہ ایسا کپڑا ہے جس میں ریشم کی دھاریاں اور خطوط (لکیریں) ہوں۔خلیل نے کہا ہے یہ وہ کپڑا ہے جس میں پسلیوں کی طرح کی چوڑی چوڑی لکیریں ہوں۔جوہری نے کہا ہے یہ وہ چادر ہے جس میں زرد رنگ کے خطوط ہوں۔یہ بھی سوال اٹھایا گیا ہے کہ ”حلة سيراء “ میں اضافت ہے یا نہیں۔اکثر نے کہا ہے محلہ پر تنوین ہے اور سیراء عطف بیان ہے۔خطابی کہتے ہیں یہ ایسے ہی ہے جیسے تاقةٌ عَشْرَاء“ ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۲۲ صفحہ ۱۷) باب ۳۱ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَجَوَّزُ مِنَ الرِّبَاسِ وَالْبُسْطِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو مختصر لباس اور بچھونار کھتے ٥٨٤٣ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبِ :۵۸۴۳ سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔انہوں نے یحی بن سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ عَنِ ابْنِ سعید سے، بچی نے عبید بن حسین سے، عبید نے نَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ لَبِثْتُ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی سَنَةٌ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ عَنِ انہوں نے کہا: میں ایک برس تک انتظار کرتا رہا الْمَرْأَتَيْنِ اللَّتَيْنِ تَظَاهَرَنَا عَلَى النَّبِيِّ اور میں یہ چاہتا تھا کہ حضرت عمرؓ سے ان دو عورتوں