صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 262 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 262

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۷۔کتاب اللباس رَسُولَ اللَّهِ لَوِ ابْتَعْتَهَا تَلْبَسُهَا لِلْوَفْدِ ایک زرد دھاری دار ریشمی جوڑا بکتے دیکھا کہنے إِذَا أَتَوْكَ وَالْجُمُعَةِ قَالَ إِنَّمَا يَلْبَسُ لگے یا رسول اللہ ! اگر آپ اس کو خرید لیں جب هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ وَأَنَّ النَّبِيَّ وفود آپ کے پاس آئیں تو ان کے لئے اور جمعہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْدَ کے دن اسے پہنا کریں۔آپ نے فرمایا: یہ تو وہی ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ حلة سِيَرَاءَ حَرِيرًا پہنتا ہے جس کے لئے کوئی بھلائی نہیں اور یہ کہ كَسَاهَا إِيَّاهُ فَقَالَ عُمَرُ كَسَوْتَنِيهَا في صلى اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد حضرت عمر کو وَقَدْ سَمِعْتُكَ تَقُولُ فِيهَا مَا قُلْتَ زرد دھاری دار ریشمی جوڑا بھیجا۔حضرت عمرؓ نے فَقَالَ إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَبِيعَهَا کہا: آپ نے مجھے یہ پہنے کے لئے دیا ہے ؟ حالا نکہ میں آپ سے سن چکا ہوں کہ آپ اس کے متعلق وہ رائے رکھتے ہیں جو آپ بتلا چکے ہیں ؟ آپ نے فرمایا: میں نے یہ تمہیں اس لئے بھیجا تھا کہ تم اسے بیچو یا یہ (کسی کو) پہناؤ۔أَوْ تَكْسُوَهَا۔أطرافه : ٨٨٦ ٩٤٨، ۲۱٠٤، ۲۶۱۲، ۲۶۱۹، 305، 5981، 6081- شُعَيْبٌ ٥٨٤٢ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا :۵۸۴۲ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب يْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے ، زہری نے أَنَسُ بْنُ مَالِكِ أَنَّهُ رَأَى عَلَى أُمّ كُلْثُومٍ کہا: مجھے حضرت انس بن مالک نے بتایا کہ انہوں عَلَيْهَا السَّلَامِ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّی نے حضرت ام کلثوم علیہا السلام کو جو رسول اللہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُرْدَ حَرِيرٍ سِيَرَاءَ۔صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی تھیں زرد دھاری دار ریشمی جوڑا پہنے ہوئے دیکھا۔شریح: الحرير للنساء: ریشمی کپڑا اور تنوں کے لیے ہے۔زیر باب حدیث میں ذکر ہے کہ حضرت علی کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ریشمی جوڑا دیا جس میں زرد دھاریاں تھی۔آپ وہ پہن کر آئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوئے۔آپ کی ناراضی دیکھ کر حضرت علی نے اپنے گھر کی خواتین میں تقسیم کر دیا۔شارحین نے بعض دیگر روایات سے ان خواتین کا بھی ذکر کیا ہے مثلاً ایک روایت میں ذکر ہے کہ حضرت علیؓ نے فرمایا: میں نے اسے الفَواطِھ کے درمیان تقسیم کر دیا۔الفواطم سے کیا مراد ہے؟ ابن قتیبہ نے کہا